ایران کی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، بل کے حق میں 222 ووٹ ڈالے گئے، کسی نے مخالفت نہیں کی، جبکہ ایک رکن نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اس قانون کے تحت، آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے گی جب ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے۔

یہ اقدام حالیہ علاقائی کشیدگیوں کے بعد ایران اور بین الاقوامی جوہری نگران اداروں کے درمیان بڑھتے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قانون سازی کو تہران کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے ایک عمومی منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کرنا تھا۔

یہ منظوری اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے رویے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایرانی سرزمین پر جارحیت کے ردعمل میں دی گئی۔

کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی کے مطابق، پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں بل کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اراکین نے منظوری دی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگر بل مکمل طور پر منظور ہو گیا، تو حکومت اس وقت تک آئی اے ای اے کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کرے گی جب تک ادارے کے پیشہ ورانہ رویے کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی۔

بل کے تحت ایران ممکنہ طور پر اپنی جوہری تنصیبات پر کیمرے نصب کرنے، معائنوں، معائنہ کاروں کے داخلے، یا آئی اے ای اے کو رپورٹیں بھیجنے سے انکار کر سکتا ہے، جب تک تمام تنصیبات کی سیکیورٹی کو مکمل طور پر یقینی نہ بنایا جائے۔

یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد کیا گیا ہے، جنہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

 13 جون کو اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد، امریکہ نے اتوار کو نطنز، فردو اور اصفہان میں تین ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتے ہیں۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) کے مطابق یہ حملے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی بھی خلاف ورزی ہیں، تاہم ان سے ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر پیش رفت نہیں رکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات بین الاقوامی آئی اے ای اے کے بعد

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی