پیپلزپارٹی نے سندھ کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے،حافظ نصر اللہ چنا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے نائب امیر اور مرکزی شوری کے رکن حافظ نصراللہ عزیز چنا نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے سندھ کو اپنی جاگیر اور یہاں کے رہنے والوں کو اپنا غلام سمجھ رکھا ہے سندھ کے حقوق پر بات کرنا جرم بنا دیا گیا ہے دریائے سندھ سے کینال نکالنا سندھ کو بنجر بنانے کے مترادف ہے جو کوئی محب وطن برداشت نہیں کرے گا پہلے پاکستان نے اب ایران نے اس خطے میں بھارت اسرائیل اور امریکا کے عزائم کو خاک میں ملادیا ہے یہ بات انھوں نے صحافیوں سے گفتگو اور مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ڈکیتی کی واردات میں خود حکومت سندھ ملوث ہے کیونکہ وہ اور جماعت اسلامی ایک عر صے سے سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور خاص طور پر کچے کے ڈاکووں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے انھوں نے کہا کہ جب ہم نے کچے کے ڈاکووں کے خلاف مظاہرہ کیا تو پیپلزپارٹی کو ہمارے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے تھا اور اعلان کرنا چاہیے تھا کہ وہ کچے کے علاقے کو ڈاکووں سے پاک کرکے دم لے گی لیکن اس نے اس مظاہرے اور دھرنے پر ہمارے خلاف مقدمہ درج کیا اور کارکنان جماعت اسلامی گرفتار کرکے کہ ثابت کیا کہ کچے میں ڈاکووں کے سر پرستی کون کر رہا ہے انھوں نے کہا کہ مجرم چاہیے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کی اسٹیٹ کے سامنے کوئی حثیت نہیں ہوتی اگر سندھ حکومت چاہیے تو ایک دن میں کراچی سے لے کر کشمور تک امن قائم ہو سکتا انھوں نے کہا کہ کینال کے مسلے پر اور کارپوریٹ فارمنگ کے مسلے پر ہمارا کھولا اور واغع موقف ہے سندھ کو نقصان پہنچانے والا کوئی منصوبہ ہمیں قبول نہیں انھوں نے کہا ہم اس مسلے کو پورے ملک کی عوام کے سامنے رکھا اور انھیں بتایا کہ دریائے سندھ سے اگر کینال نکالی گئی تو سندھ بنجر بن جائے گا اور سندھ کو اگر نقصان پہنچے گا تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا انھوں نے ایسا کوئی منصوبہ ہمیں قابل قبول نہیں جس کی وجہ سے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچے انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سندھ میں امن کی اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سندھ کو
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔