ایران کا ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان، ’اب کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا‘
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ایران نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام کسی صورت نہیں رکے گا۔ ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام کسی رکاوٹ کے بغیر دوبارہ شروع کیا جائے گا، اور یورینیم افزودگی کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق، ایران کی ایٹمی تنصیبات کی تعمیر نو کا کام تیزی سے جاری ہے، اور جلد ہی یہ تمام تنصیبات مکمل فعالیت کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر دیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ بارہ روزہ اسرائیلی جارحیت نے ایرانی قوم کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے سائنسدانوں نے اپنی جانیں تک قربان کیں، ہماری عوام نے ناقابل برداشت مشکلات برداشت کیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی، مگر ہم نے پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔‘
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ بات یقینی ہے کہ ایران میں کوئی بھی فرد یا ادارہ جوہری ٹیکنالوجی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ’ہم پُرعزم ہیں، متحد ہیں اور اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہیں۔‘
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔