ایران اسرائیل جنگ، پس پردہ عوامل، اسباب و نتائج، ماہر عالمی امور ڈاکٹر امجد علی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
"اسلام ٹائمز" کی جانب سے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں پاکستان کی معروف سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے، اسی سلسلے میں ماہر عالمی امور و محقق لیکچرار ڈاکٹر امجد علی سے خصوصی گفتگو کی گئی، ایران اسرائیل جنگ، پس پردہ عوامل، اسباب و نتائج سے متعلق اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ڈاکٹر امجد علی کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ شیئر بھی کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںماہر عالمی امور و محقق لیکچرار ڈاکٹر امجد علی کا تعلق پاکستان کی معروف مادر علمی جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ہے۔ گذشتہ بارہ سالوں سے بحیثیت لیکچرار جامعہ کراچی میں تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، وہ معروف تعلیمی ادارے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں بھی تحقیقی و تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور میں بھی دو سال تدریسی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، وہ سندھ یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں، بین الاقوامی تعلقات سمیت ملکی و عالمی امور و ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ماہر عالمی امور و محقق لیکچرار ڈاکٹر امجد علی کیساتھ ایران اسرائل جنگ، پس پردہ عوامل، اسباب و نتائج و دیگر متعلقہ موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر انکا خصوصی ویڈیو انٹرویو لیا، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر امجد علی عالمی امور
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔