ایران کے بائیں بازو کا اصولی موقف
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ایران میں بائیں بازو کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کمیونسٹ پارٹی ایران(حزب تودہ ایران، جس پر 40 سال سے پابندی ہے)کی مرکزی کمیٹی کی طرف سے ان کی آفیشل ویب سائٹ پر اسرائیل کے ایران پر حملے سے پیدا شدہ صورتحال حال پر جاری اعلامیے میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔
جاری شدہ اعلامیے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ تودہ پارٹی عوام کی خواہش اور مرضی کے خلاف کوئی بھی غیر ملکی مداخلت اور عسکری جارحیت ناقابل قبول ہے ۔یہ ایران میں حقیقی جمہوریت و سوشل ازم کے لیے سرگرداں سیاسی قوتوں کے اسی روایتی موقف کا اعادہ ہے کہ وہ ’’ایرانی رجیم ہٹاؤ ‘‘مہم کی نہ تو حمایت کریں گے اور نہ اسے برداشت کریں گے ۔
ایران میں جمہوریت پسند بائیں بازو نے ایسے کسی بھی گروہ کی حمایت نہیں کی جو ایران میں سیاسی آزادی ، انسانی حقوق کی بازیابی اور جمہوریت کے قیام کے لیے امریکا سمیت عالمی سامراجی قوتوں کی مداخلت کو جائز سمجھتے ہیں ۔ تودہ پارٹی نے 1980 میں ’’مجاہدین خلق ‘‘کی جانب سے ایرانی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے امریکا سے ہاتھ ملانے کی شدید مذمت کی تھی اور عراقی صدر صدام حسین کے ایران پر حملے کے خلاف ایران کے دفاع کے لیے اپنے کیڈرز کو محاذ جنگ پر بھیجا تھا ۔
تودہ پارٹی کو ایرانی انقلابی حکومت نے 1984 سے کالعدم قرار دے رکھا ہے ۔اس کے متعدد کارکن اس وقت بھی جیلوں میں قید ہیں ، انقلاب ایران کے بعد اس کے متعدد کارکن اور رہنما ماورائے عدالت قتل ہوئے اور کئی ایک پھانسی کی سزا پا چکے ہیں،نامساعد حالات کے باوجود ایران میں جامعات کے طلبا ، فیکٹریوں ، کارخانوں ، ریلوے ، ٹرانسپورٹ ، کمیونی کیشن کے اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں میں وسیع حمایت رکھتی ہے۔
گزشتہ سال ایران میں ٹرانسپورٹ ورکرز کی ملک گیر ہڑتال میں بائیں بازو نے نمایاں کردار ادا کیا تھا ۔ یہ کالعدم جماعت فلسطین پر صہیونی قبضے کو عالمی سامراجی قوتوں کی سازش سمجھتی ہے۔ ایران اسرائیل کی فوجی جارحیت اور دہشت گردانہ اقدام کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ایرانی قوم کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی سمجھتی ہے ۔
ایران کے جمہوریت پسند ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کے ساتھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عوام کی مرضی، خواہش اور حقوق کے خلاف ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت اور عسکری جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔ صرف سامراج، اس کے پٹھو، رجعت پسند اور آمر قوتیں ہی ایسی کشیدگی اور جنگوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ایران کی تمام تمام ترقی پسند اور آزادی خواہ حلقے، ایران اور دنیا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ متحد ہوکر، ایک آواز ہوکر، بین الاقوامی قوانین کی اس کھلی اور سنگین خلاف ورزی کی مذمت کریں، اور اپنی تمام تر کوششیں مشرقِ وسطی میں ایک وسیع اور تباہ کن عسکری تصادم کو روکنے اور پائیدار امن کے قیام پر مرکوز رکھیں۔
عالمی رائے عامہ کو محض اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے اسرائیلی حملے پر’’تشویش کے اظہار‘‘پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کے تمام موجودہ وسائل کو اس علاقے میں جنگ کو روکنے کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ ایرانی جمہوریت پسند حلقے پختہ یقین رکھتے ہیں کہ صرف امن کے قیام اور اس کے دفاع کے ذریعے ہی مشرق وسطیٰ کے موجودہ خطرناک بحران کا خاتمہ ممکن ہے۔
تودہ پارٹی 1941 رضا شاہ پہلوی کی معزولی کے بعد قائم ہوئی تھی ،اس کے بانیوں میں وہ لوگ شامل تھے جو رضا شاہ کے دور میں جیلوں میں رہے، جن میں سے کئی مارکسی یا سوشلسٹ نظریات رکھتے تھے۔پارٹی کا نام ’’تودہ ‘‘فارسی لفظ ہے جس کا مطلب عوام ہے یعنی عوامی پارٹی۔تودہ پارٹی نے صنعتی مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور دانشوروں میں جلد ہی مقبولیت حاصل کر لی۔
سوویت یونین سے نظریاتی ہمدردی کی بنیاد پر اسے حمایت بھی حاصل رہی۔تودہ پارٹی نے کئی انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ میں موجود رہی۔محمد مصدق کی آئل نیشنلائزیشن تحریک کے دوران، پارٹی نے ان کی حکومت کی محدود حمایت کی، مگر بعد میں اختلافات پیدا ہوئے۔ جب مصدق حکومت کا تختہ الٹا گیا، تودہ پارٹی پر پابندیاں لگیں۔اس کے درجنوں ارکان گرفتار اور کچھ سزائے موت کے مرتکب ہوئے۔ زیر زمین نیٹ ورک کام کرتا رہا مگر کریک ڈان بہت سخت تھا۔
حزب تودہ نے آیت اﷲ خمینی کی حمایت کی تھی ، اسلامی انقلاب کو قبول کرلیا مگر پھر ایران کی انقلابی حکومت نے تودہ پارٹی کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی، یہ پابندی تاحال قائم ہے ، تودہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کیا نوری اور طبری جیسے رہنماؤں کو جنھوں نے شہنشاہ کے خلاف جدوجہد میں طویل عرصہ جیلوں میں گزارا تھا، انقلابی حکومت کے دور میں ٹی وی اسکرین پر ان رہنماؤں کے معافی کے مناظر دکھائے گئے۔ ایران کے لبرل اور بائیں بازو کے لوگوں نے جلا وطنی میں زیادہ تر یورپ، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں اپنے یونٹس قائم کیے اور رسائل اور ویب سائٹس کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ایران کی صورت حال کا جائزہ لینے والے ماہرین کہتے ہیں کہ متوسط طبقے خاص طور پر خواتین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ سال ایک کرد لڑکی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے جنھیں سختی سے دبا دیا گیا تھا، اس احتجاجی تحریک میں بہت سے لوگ مارے گئے تھے، اسرائیل نے اسی بے چینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی خفیہ ایجنسی کا نیٹ ورک قائم کیا اور بہت سے سائنسدانوں اور رہنماؤں کو شہید کیا ۔
ایرانی قیادت کو اس حقیقت کو محسوس کرنا چاہیے کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف آواز اٹھانے والی ساری سیاسی جماعتوں کا محاذ بنائیں ، تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی ختم کریں اور تمام نظر بند سیاسی شخصیات کو رہا کریں تا کہ آنے والے وقت میں تمام سامراج دشمن قوتیں متحد ہوکر اپنے وطن کا دفاع کرسکیں۔
اس نازک موقع پر ایران کے متوسط طبقے میں دبا رہنے والاہیجان ایک خطرناک صورت حال کی نشاندہی کررہا ہے۔ اسرائیل کی کمیونسٹ پارٹی اور اسرائیل میں بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد ڈیموکریٹک الائنس فار پیس نے بھی اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تودہ پارٹی ایران میں پارٹی نے کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔