ماسکو ایران کیخلاف جارحیت کے خاتمے کا خواہاں ہے، روس
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ایرانی سرزمین پر صیہونی رژیم کی جارحیت کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف جارحیت کو فی الفور بند کرنے پر تاکید کی ہے اسلام ٹائمز۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مغربی ایشیائی خطے میں کشیدگی میں اضافہ، پورے خطے سمیت دنیا بھر کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں سرگئی لاؤروف کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق صورتحال میں کشیدگی، علاقائی و عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی۔ روسی وزیر خارجہ نے ایرانی سرزمین کے خلاف صیہونی رژیم کی حالیہ جارحیت پر ایک مرتبہ پھر تنقید کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ بے بنیاد تھا جبکہ روس، ایران کے خلاف جارحیت کو روکنے اور سیاسی و سفارتی راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے موجودہ بحران کے حل کے لئے ماسکو کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال میں کشیدگی کے حل کے لئے طریقہ کار امریکہ، ایران اور اسرائیل کو تجویز کر دیا گیا ہے جبکہ ماسکو خود بھی اس معاملے پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔