گیس لیکج دھماکے میں جاں بحق سینیٹر عباس آفریدی باوفاساتھی تھے، خدمات کو یاد رکھا جائےگا، نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مرحوم سینیٹر عباس آفریدی کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے سابق سینیٹر سینیٹر عباس آفریدی کے اہل خانہ سے تعزیت اور ان کے بلندی درجات کیلئے دعا کی۔
صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ عباس آفریدی مخلص اور باوفا ساتھی تھے، پارٹی کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کوہاٹ میں گیس لیکج دھماکے میں زخمی سابق وفاقی وزیر سینیٹر عباس آفریدی دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔
عباس آفریدی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنے حجرہ عظیم باغ میں گیس لیکج کے باعث ہونے والے دھماکے میں زخمی ہوئے تھے۔
عباس آفریدی کو علاج کے لیے کھارہاں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔
ان کے انتقال کے چند روز بعد ان کے والد سابق سینیٹر شمیم آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ میرا بیٹا عباس آفریدی گیس لیکج دھماکے میں جاں بحق نہیں ہوا بلکہ اسے سازش کے تحت بم دھماکے میں قتل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر عباس آفریدی دھماکے میں گیس لیکج
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔