Daily Ausaf:
2026-07-24@08:00:29 GMT

موجودہ امریکہ سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’گزشتہ بیس برسوں کے دوران عیسائی بنیاد پرستوں نے یسوع مسیح کے اس فرمان کو کھلم کھلا چیلنج اور رد کیا کہ ’’قیصر کا کام قیصر پر چھوڑو اور خداوند کے کام کو خداوند پر‘‘۔ بیشتر امریکی اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ عوام سرکاری پالیسی پر اثر انداز ہوں، تاہم وہ اس امر کو درست نہیں سمجھتے کہ کوئی مذہبی گروہ کسی جمہوری حکومت کے کاموں پر کنٹرول پا لے، یا سرکاری اہل کار مذہبی معاملات میں دخل انداز ہوں، یا کچھ خاص مذہبی اداروں کے حق میں قوانین یا ٹیکس محاصل کو استعمال کریں۔‘‘ (ص ۶۲)
’’میں نے پوپ کی دوسرے عیسائیوں کے علاوہ یہودیوں اور مسلمانوں میں تبلیغ کی کوششوں کو سراہا، اور چرچ کو عالمی اہمیت دلوانے کی ان کی جدوجہد کی تحسین کی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کو پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نے عورتوں کو کمتر سمجھنے اور انہیں پادری نہ بنانے کے ان کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ اولین عیسائی چرچ کے لیے ان کے کردار کی توہین ہے۔‘‘ (ص ۶۳)
’’مجھ سے پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا کبھی میرے عیسائی عقائد اور صدر کی حیثیت سے میرے دنیاوی (سیکولر) فرائض کے درمیان تصادم پیدا ہوا تھا؟ کچھ معاملات میں ایسا ہوا تھا تاہم میں نے ہمیشہ اپنے اس حلف کا احترام کیا کہ میں ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کا تحفظ اور دفاع کروں گا‘‘۔ مثال کے طور پر میرا ایمان ہے کہ یسوع مسیح اسقاط حمل یا سزائے موت کو کبھی قبول نہ کرتے، تاہم میں نے اپنی بہترین اہلیت کے مطابق سپریم کورٹ کے اس نوع کے فیصلوں کی تعمیل کی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے خیال کے مطابق ان کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوششیں بھی کیں۔‘‘ (ص ۶۵)
’’۲۰۰۰ء میں جنوبی بیپٹسٹ کنونشن کے لیڈروں نے اپنے اصولوں میں سے اس اصول کو نکال دیا کہ ’’ریاست مذہب کی کسی بھی صورت (form) کی مدد کے لیے ٹیکس عائد کرنے کا حق نہیں رکھتی‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پرائیویٹ اسکولوں کے لیے واؤچر بنائے اور پبلک اسکولوں میں عبادت کو لازمی قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم کا مطالبہ کیا اور چرچ اور ریاست کی علیحدگی کو کھلم کھلا چیلنج کرنے لگے۔‘‘ (ص ۶۸)
’’جولائی ۲۰۰۵ء میں سپریم کورٹ کی جسٹس سانڈراڈے اوکونر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے فوری بعد کہا تھا ’’میں نے اپنی ساری زندگی میں کانگریس کے ارکان اور عدلیہ کے تعلقات کو اتنا داغدار کبھی نہیں دیکھا جتنا کہ اب ہیں ۔۔۔۔ اور میں یہ دیکھ کر بہت دل گرفتہ ہوں۔ موجودہ فضا ایسی ہے کہ میں وفاقی عدلیہ کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں۔‘‘ (ص ۷۰)
’’۲۰۰۶ء کے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران صدارت کے دونوں امیدواروں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کی مخالفت کی تھی۔ تاہم قانونی طور پر تسلیم شدہ یونینوں کے ذریعے مرد اور عورت ہم جنس پرست جوڑوں کو مساویانہ شہری حقوق دینے کی منظوری دی تھی۔‘‘ (ص ۷۴)
’’ہم سب خاندانی اقدار اور شادی کی روایت کے استحکام کو انتہائی اہم تصور کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کالج پہنچنے سے پہلے تک میں کسی طلاق یافتہ شخص سے واقف نہیں تھا۔ تاہم اب طلاق خطرناک حد تک عام ہو چکی ہے۔ تمام امریکی بالغوں میں سے ۲۵ فیصد کو کم از کم ایک مرتبہ طلاق ہو چکی ہے۔ طلاق کی تعداد میں کمی بیشی مذہبی وابستگی اور عمر کی مناسبت سے مختلف ہے۔ بڑے عیسائی گروپوں میں سے بیپٹسٹ سب سے اوپر ہیں ۲۹ فیصد، جبکہ کیتھولک اور لوتھرن طلاق یافتگان ۲۱ فیصد ہیں۔ ایشائیوں کے استثناء کے ساتھ صرف ۹ فیصد، پروٹیسٹنٹوں کے سینئر پیسٹر سب سے کم طلاق یافتہ گروپ تھا ۱۵ فیصد۔ بے بی بومرز (baby boomers) ۳۴ فیصد کو پہنچ چکے ہیں۔ ۵۳ سال سے ۷۲ سال کی عمر کے درمیان کی عمر والے افراد ۳۷ فیصد، جبکہ بوڑھے افراد میں صرف ۱۸ فیصد طلاق یافتہ ہیں۔ شادی کے تقدس کو لاحق اس خطرے کی وجوہ بہت سی ہیں لیکن بعض لوگ ہم جنس پرستی کو شادیوں کی ناکامی میں بہت زیادہ اضافے کا ایک اہم سبب تصور کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۷۴)
’’نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا اور یورپ کے بچے بھی جنسی اعتبار سے امریکی بچوں ہی کی طرح فعال ہیں۔ تاہم مناسب سیکس ایجوکیشن سے محروم امریکی لڑکیاں فرانسیسی لڑکیوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ تعداد میں ایک بچے کی ماں ہوتی ہیں، سات گنا زیادہ امریکی لڑکیاں ایک مرتبہ اسقاط حمل کروا چکی ہوتی ہیں۔ اور نیدر لینڈ کی لڑکیوں کے مقابلے میں ۷۷ گنا زیادہ امریکی لڑکیاں سوزاک کا شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے ٹین ایجروں کے مقابلے میں ۵ گنا زیادہ امریکی ٹین ایجر ’’ایچ آئی وی ایڈز‘‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ (ص ۸۰)
’’اگرچہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بہت سے دوسرے پیچیدہ سیاسی عناصر نے منفی اثر ڈالا ہے، تاہم بنیاد پرستوں نے جذباتی معاملات پر شعلہ بیانی کر کے اور مخالفوں سے مذاکرات سے گریز کر کے امریکی خارجہ پالیسی کی صورت بگاڑ دی ہے۔ ایک اہم مثال یہ ہے کہ چند امریکی سیاسی لیڈروں نے فیڈل کاسترو کو ایک ولن کے طور پر قبول کر رکھا ہے اور انہوں نے کیوبا جیسے چھوٹے سے، عسکری اعتبار سے بانجھ ملک کو ہمارے ملک کی سلامتی اور ثقافت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بنا دیا ہے۔‘‘ (ص ۱۰۳)
’’مذہب اور حکومت کا ایک انتہائی عجیب امتزاج، امریکہ کی مشرق وسطٰی میں پالیسی پر کچھ عیسائی بنیاد پرستوں کا بھرپور اثر ہے۔ امریکہ میں تقریباً ہر شخص بارہ کتابوں پر مشتمل (Left Behind) سیریز سے واقف ہے جس کے مصنف ٹم لاہے اور جیری بی جینکنس ہیں۔ ان کتابوں نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے یہ کتابیں بائبل کی احتیاط سے منتخب کردہ عبارتوں خصوصاً ’’بک آف ریویلیشن‘‘ سے لی گئی عبارتوں کی اساس پر لکھی ہیں اور ان میں دنیا کے ختم ہونے کی منظر کشی کی گئی ہے۔ جب مسیح واپس آئے گا تو سچے ایمان والوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے گا، جہاں وہ خداوند کے ساتھ نیچے رہ جانے والے بیشتر انسانوں کی اذیتوں کا نظارہ کریں گے۔ یہ واقعہ لمحاتی ہو گا اور اس کا وقت پہلے نہیں بتایا جا سکتا۔ میرے لاکھوں ساتھی بیپٹسٹ اور دوسرے لوگ ایسے ہیں جو اس نظریے پر لفظًا یقین رکھتے ہیں اور خود کو چند منتخب لوگوں میں شامل سمجھتے ہیں، اور ’’دہشت و اذیت کے دور‘‘ میں نجات کے لیے منتخب نہ کیے جانے والے اپنے افراد خانہ، دوستوں اور ہمسایوں کو چھوڑنے اور ان کی مذمت پر تیار ہیں۔
امریکی حکومت کی پالیسیوں میں ایسے نظریات کا سمویا جانا تشویش کا سبب ہے۔ ان ایمان والوں کو یقین ہے کہ اس (Rapture) کی جلد آمد اُن کی شخصی ذمہ داری ہے تاکہ بائبل کی پیشگوئی پوری ہو۔ ان کے ایجنڈے میں مشرق وسطٰی میں اسلام کے خلاف جنگ کرنا اور یہودیوں کا ساری ارض مقدس کو چھین لینا شامل ہے۔ ساتھ ہی سارے عیسائیوں اور غیر یہودیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ اس کے بعد کافر (اینٹی کرائسٹ ) اس علاقے کو فتح کر لیں گے اور مسیح فتح پائے گا۔ Rapture کے زمانے میں سارے یہودی یا تو عیسائیت قبول کر لیں گے یا انہیں جلا دیا جائے گا۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گنا زیادہ کے لیے اور ان

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی