ری پبلکن رہنما اور امریکی کانگریس کی رکن مارجری ٹیلر گرین نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کا قتل ممکنہ طور پر اسرائیل کے جوہری پروگرام کی مخالفت سے جڑا ہوا تھا، ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ان کی اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کو بھی اسی نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں مارجری ٹیلر گرین نے لکھا کہ کبھی ایک عظیم صدر ہوا کرتا تھا جسے امریکی عوام بہت چاہتے تھے۔ ’۔۔۔وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کا مخالف تھا اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔‘

BREAKING:

US Representative Marjorie Taylor Greene claims that President John F.

Kennedy was assassinated in 1963 for opposing Israel’s nuclear weapons program. pic.twitter.com/bcVvqulnxv

— First Source Report (@FirstSourceNew) June 25, 2025

اپنی پوسٹ میں امریکی رکن کانگریس نے مزید سوال کیا کہ کیا انہیں اپنی زندگی کو لاحق خطرہ محسوس کرنا چاہیے اور اسی طرح کیا صدر ٹرمپ کو بھی، جنہوں نے آج صبح اسرائیل کو ایران پر حملے جاری رکھنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر بمباری سے خبردار کرتے ہوئے ممکنہ حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

مارجری ٹیلر گرین نے حالیہ ویک ایںڈ پر ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ امریکا کو غیر ملکی مفادات کے لیے جنگوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔

’امریکی فوجیوں کو نظام کی تبدیلی، غیر ملکی جنگوں، اور فوجی صنعت کے منافع کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر تباہ کیا گیا ہے۔ میں اس سب سے تنگ آ چکی ہوں۔‘

مزید پڑھیں:

جان ایف کینیڈی کو 1963 میں ٹیکساس میں لی ہاروی اوسوالڈ نامی سابق میرین نے قتل کیا تھا، اگرچہ کینیڈی کے قتل کا اسرائیل سے کوئی ٹھوس تعلق سامنے نہیں آیا، لیکن یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ اسرائیل کے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور خبردار کر چکے تھے کہ اگر ڈیمونا ری ایکٹر میں شفافیت نہ دکھائی گئی تو امریکا کی اسرائیل کے لیے حمایت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایکس پلیٹ فارم جان ایف کینیڈی جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطے مارجری ٹیلر گرین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایکس پلیٹ فارم جان ایف کینیڈی ڈونلڈ ٹرمپ مارجری ٹیلر گرین مارجری ٹیلر گرین جان ایف کینیڈی اسرائیل کے کے لیے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم