خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کا پینشن کٹوتی اور کم الاؤنس کے خلاف احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے سرکاری ملازمین ایک بار پھر احتجاج کی راہ پر گامزن ہو گئے، صوبے بھر سے ملازمین پشاور کا رخ کر رہے ہیں۔ احتجاج کا مقصد پینشن میں ممکنہ کٹوتی اور ڈسپریٹی الاؤنس میں کمی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے صدر وزیر زادہ کے مطابق تمام ملازمین سٹی نمبر ون اسکول میں جمع ہوں گے اور بعد ازاں اسمبلی چوک کی جانب مارچ کریں گے، جہاں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
اگیگا کےصدر نے مطالبہ کیا ہے کہ پینشن میں کسی قسم کی کٹوتی ہرگز قبول نہیں اورصوبائی بجٹ میں تجویز کردہ 15 فیصد ڈسپریٹی الاؤنس ناکافی ہے ہمیں وفاق کی طرز پر کم از کم 30 فیصد ڈسپریٹی الاؤنس دیا جائے۔
ملازمین کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں موجودہ مراعات ناکافی ہیں اور ان پر مزید کٹوتیاں معاشی قتل کے مترادف ہوں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مشیر خزانہ کے ساتھ سرکاری ملازمین کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد اگیگا نے احتجاج کی کال دی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔