ایران میں اسرائیلی جاسوسوں کی شامت،3 کو پھانسی، 700 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">تہران: اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اب جنگ بندی عمل میں آ گئی ہے۔ ادھر ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی تلاش اور سزائیں دینا شروع کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران نے جاسوسی کے الزام میں بدھ کی صبح تین افراد کو موت کی سزا سنائی جبکہ مجموعی طور پر 700 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تین جاسوسوں کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان پر موساد کے لیے جاسوسی کرنے اور قتل کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کا الزام تھا جو تفتیش میں درست پایا گیا۔ ایران اب اپنے ملک میں چھپے اسرائیلی ایجنٹوں کو تلاش کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی حملوں کے بعد موساد کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کا خیال ہے کہ اسرائیلی جاسوسوں نے جوہری تنصیبات سے متعلق خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔ ایران میں اب تک چھ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘IRNA’ کے مطابق بدھ کو ایران کے مغربی آذربائیجان صوبے کی ارمیا جیل میں پھانسی دی گئی۔
مغربی آذربائیجان ملک کا سب سے زیادہ شمال مغربی صوبہ ہے۔ ‘IRNA’ نے خبر میں ایران کی عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد پر ملک میں ہتھیار لانے کا الزام ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران بہت سے لوگوں کو پھانسی دی ہے۔
آزاد شجاعی، ادریس علی اور عراقی شہری رسول احمد رسول کو بدھ کے روز ایران کے مغربی آذربائیجان صوبے کی ارمیا جیل میں پھانسی دی گئی۔ ایران کی عدلیہ کے مطابق ان افراد پر ملک میں قتل کا سامان لانے کا الزام تھا۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران تقریباً چھ افراد کو پھانسی دی ہے۔اب تک 700 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تنازع ختم ہونے کے بعد مزید بہت سے لوگوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ بدھ کو پھانسی دیے جانے کے بعد 16 جون سے جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والوں کی کل تعداد چھ ہو گئی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران نے اسرائیل کو پھانسی دی افراد کو کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔