ایران نے اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں مزید 3 افراد کو پھانسی دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں مزید 3 افراد کو پھانسی دے دی، یہ کارروائی دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے ایک روز بعد عمل میں آئی۔

عالمی میڈیا نے ایرانی عدلیہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پھانسی پانے والوں میں ادریس علی، آزاد شجاعی اور رسول احمد رسول شامل ہیں، جن پر ملک میں قتل کی کارروائیاں انجام دینے کے لیے سامان درآمد کرنے کی کوشش اور صہیونی حکومت کے حق میں تعاون کا الزام تھا۔

عدلیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سزاؤں پر آج صبح عملدرآمد کیا گیا ہے اور انہیں پھانسی دے دی گئی۔

اسرائیل سے تعاون کے مرتکب تینوں افراد کی پھانسی کی کارروائی ایران کے شمال مغربی شہر ارومیہ میں عمل میں آئی، جو ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہے، عدلیہ نے تینوں افراد کی نیلے قیدی لباس میں تصاویر بھی جاری کیں۔

میزان نیوز ایجنسی کے مطابق، ان افراد نے جو سامان اسمگل کیا تھا، وہ ایک نامعلوم شخصیت کے قتل میں استعمال ہوا، تاہم اس شخصیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تہران کی جانب سے اکثر ایسے افراد کی گرفتاری اور سزائے موت کا اعلان کیا جاتا ہے جن پر غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں، خصوصاً اسرائیل کے لیے جاسوسی کا شبہ ہوتا ہے۔

13 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ کے آغاز کے بعد، تہران نے اسرائیل سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد کے خلاف فوری مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ایران نے اتوار اور پیر کو بھی موساد سے وابستگی کے الزام میں چند افراد کو پھانسی دی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران چین کے بعد دنیا میں سزائے موت دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکی حملے ناکام نکلے، خفیہ رپورٹ میں انکشاف ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکی حملے ناکام نکلے، خفیہ رپورٹ میں انکشاف غزہ: فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 7 اسرائیلی فوجی ہلاک کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام چین نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں امن کو فروغ دیا ہے، چینی وزیر خارجہ ایران نے 550بیلسٹک میزائل،ایک ہزار ڈرون داغے، 28شہری ہلاک، 3ہزار زخمی ہوئے، اسرائیلی حکام یو اے ای کا ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افراد کو پھانسی پھانسی دے دی کے الزام میں اسرائیل کے نے اسرائیل ایران نے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم