ایران نے بہادری سے جنگ لڑی، اگلے ہفتے مذاکرات اور معاہدہ ہوسکتا ہے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی، اگلے ہفتے مذاکرات اور معاہدہ ہو سکتا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق دی ہیگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ ہوچکی ہیں، گزشتہ ہفتے ایرانی جوہری تنصیبات پر کامیاب حملہ کیا، امن کیلئے جو ہوسکا ہم نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حملے کی وجہ سے ایران اسرائیل کی جنگ بندی ہوئی ، مجھے نہیں لگتا ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ ہوگی، ماضی میں بھی ہیروشیما، ناگا ساکی پر حملے سے جنگ ختم ہوئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے ، ہمیں ایک شاندار فتح حاصل ہوئی ہے، ایرانی اٹیمی تنصیبات پر امریکی آبدوزوں سے میزائل داغے، ایران کی جوہری تنصیبات اب فعال نہیں رہیں گی، ایران کے تمام میزائلوں کو مار گرایا ۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران نے بہادری کے ساتھ جنگ لڑی ،ان کے ساتھ اگلے ہفتے بات ہوسکتی ہے، دنیا میں جو بھی مذاکرات کا خواہاں ہے امریکہ اس کے لیے تیار ہے، ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو تعمیر نو کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے، چین کی مرضی ہے وہ ایران سے تیل خریدتا ہے یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔