کینیا: حکومت مخالف احتجاج پر پولیس کا طاقت کا استعمال، 16 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیروبی: کینیا میں کرپشن اور متنازع مالیاتی بل کے خلاف ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج دارالحکومت نیروبی سمیت کئی بڑے شہروں میں اُس وقت شروع ہوا جب متنازع مالیاتی بل کے خلاف عوامی احتجاج کو ایک سال مکمل ہوا، مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کرپشن اور مہنگائی پر احتجاج کیا، جس کے جواب میں پولیس نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
عینی شاہدین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کینیا کے مطابق ہلاکتوں کی بڑی تعداد پولیس کی براہ راست فائرنگ کا نتیجہ ہے جبکہ متعدد افراد آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے، زخمیوں میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ صحافی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی کینیا کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت مظاہرین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے حالات کو قابو میں رکھنے کے نام پر میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے مظاہروں کی براہ راست کوریج پر پابندی لگا دی ہے، اس فیصلے کے خلاف دو مقامی ٹی وی چینلز کو آف ایئر کر دیا گیا ہے، جس پر آزادی اظہار کے علمبردار اداروں نے شدید ردعمل دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اسی مالیاتی بل کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ بدعنوانی میں اضافے نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیا میں جمہوری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ دوسری جانب، حکومت نے حالات کی سنگینی کے باوجود بل واپس لینے یا مذاکرات کی کوئی پیشکش نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ