Islam Times:
2026-06-03@02:08:04 GMT

اسرائیل مستثنی کیوں؟ یورپ کو اسپین کا چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

اسرائیل مستثنی کیوں؟ یورپ کو اسپین کا چیلنج

بیشتر یورپی ممالک کی منافقانہ خاموشی کے باوجود، ہسپانوی وزیر اعظم نے اسرائیل کے بارے یورپی یونین کیجانب سے اختیار کردہ دوہرے معیار پر سخت تنقید کی اور روس و اسرائیل کے حوالے سے یورپ کے رویے کا موازنہ کرتے ہوئے تل ابیب کیساتھ شراکتداری کے معاہدے کو فی الفور معطل کرنیکا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز (Pedro Sánchez) نے اعلان کیا ہے کہ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ یورپی یونین نے روس کے خلاف تو پابندیوں کے 17 پیکج عائد کئے ہیں، جبکہ اسرائیل کے خلاف کوئی ایک کارروائی بھی نہیں کی! انسانی حقوق کے ضیاع اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے قابض اسرائیلی رژیم کو حاصل مکمل استثنی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم نے تاکید کی کہ یورپ دوہرے معیار کا حامل ہے لہذا اب وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدے کو معطل کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ پیڈرو سانچیز نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو قابض اسرائیلیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدام اٹھانا چاہیئے تھا جبکہ آج میں یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ شراکتداری کے معاہدے کو فی الفور معطل کرنے کا مطالبہ بھی کروں گا۔
  واضح رہے کہ ہسپانوی وزیراعظم کے یہ ریمارکس یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک اہم اجلاس سے قبل جاری ہوئے ہیں کہ جس میں "اسرائیل کے ساتھ سیاسی و تجارتی تعلقات پر نظرثانی" کے لئے اس یونین کے اندر بڑھتے مطالبات بھی زیر بحث آئیں گے۔ یہ اجلاس اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کیا گیا ہے جبکہ یورپی وزراء سے اس بات کا جائزہ لینے کی توقع بھی کی جا رہی ہے کہ کیا اسرائیل نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے سیاسی و اقتصادی تعلقات کو کنٹرول کرنے والے معاہدے میں انسانی حقوق کی شقوں کی تعمیل کی ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے کا غزہ کی صورتحال کی روشنی میں از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین یونین کے کہ یورپ

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی