اہم ممالک کی درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ بڑھانے کی ہدایت جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
حکومت نے متعلقہ وزارتوں کو اہم ممالک کی درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ بڑھانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جن ممالک سے درآمدات پر ٹیکس نہیں بڑھایا جائے گا ان میں امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، جاپان اور چین شامل ہیں۔
یاد رہے کہ وزارتِ خزانہ پہلے ہی امریکا کے ساتھ جاری ٹیرف مذاکرات کے دوران کسی قسم کی ٹیکس اور ڈیوٹیز میں تبدیلی کی مخالفت کر چکی ہے۔
امریکا کے ساتھ جولائی میں ٹیرف، تجارت اور سرمایہ کاری مذاکرات اور معاہدے کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمنی سے درآمدات پر ٹیکس نہیں بڑھایا جائے گا، جرمنی گلہ کرنے کے علاوہ یورپی یونین سے بھی ٹیکس استثنیٰ کےلیے دباؤ ڈالواتا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ متبادل ذرائع توانائی میں پاکستان کو سب سے زیادہ امداد جرمنی دیتا ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ یورپی یونین سے باہر پاکستان کی سے بڑی برآمدات کا مرکز ہے اور برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکلنے کے بعد نئی منڈیوں کی تلاش ہے۔
اسی طرح جاپان نے درآمدات پر ٹیکس اضافے سے مزید سرمایہ کاری متاثر ہونے کا کہا ہے، اس کے بعد چین سے درآمدات اور آن لائن خریداری پر ٹیکسوں کو کم رکھا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ چین سے آنے والی اشیاء مقامی کاروبار اور روزگار میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: درآمدات پر ٹیکس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔