Daily Ausaf:
2026-06-03@08:42:53 GMT

آئی سی سی نےکرکٹ میں نئےقوانین متعارف کرادیئے

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نےکرکٹ میں نئےقوانین متعارف کرادیئے۔آئی سی سی نے نئے قوانین کے تحت کرکٹ کی پلیئنگ کنڈیشنز میں کئی تبدیلیاں کر دی ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے وائٹ بال کے بعد اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اسٹاپ کلاک متعارف کرانےکافیصلہ کیا گیا ہے ، ٹیسٹ کرکٹ میں سلو اوور ریٹ ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے لیکن اب فیلڈنگ سائیڈ کو ٹیسٹ کرکٹ میں اوور کے اختتام پردوسرا اوور ایک منٹ کے اندر شروع کروانا ہوگا، ایک منٹ میں اوور شروع نہ کرنے پر امپائر 2 وارننگز دے گا، تیسری بار امپائر فیلڈنگ سائیڈ پر 5 رنز کی پنالٹی عائد کرےگا۔سٹاپ کلاک کا رول آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل پرلاگو ہوچکا ہے۔

جان بوجھ کرگیند پرتھوک کے استعمال پر گیند تبدیل نہیں کیاجائےگا، تھوک کے استعمال کے بعدگیند کی ساخت میں تبدیلی پرامپائر بیٹنگ سائیڈ کو 5 رنز دےسکتاہے۔تیسری تبدیلی میں جان بوجھ کر شارٹ رن لینے پر بیٹنگ سائیڈ پر 5 پنالٹی رنز کے ساتھ اسٹرائیک کا فیصلہ بولنگ سائیڈ کرےگی، امپائربولنگ سائیڈ سے مشورہ کرےگاکہ شارٹ رن کے بعد وہ کس بیٹرکواسٹرائیک پرلینا چاہیں گے۔

آئی سی سی نے فیئرنس آف کیچ کےریویو میں بھی تبدیلی کردی، اس تبدیلی کے ذریعے اگرامپائرکو کیچ پکڑنے پرشک ہو تو تھرڈ امپائر نوبال کے ساتھ کیچ کو بھی ریویو میں چیک کرےگا۔اس سے قبل تھرڈ امپائرپہلےنوبال چیک کرتا تھا اور نوبال کی صورت میں کیچ کا ریویو چھوڑ دیا جاتا تھا۔نئے رولز کے مطابق نوبال پر فیئر کیچ کی صورت میں بیٹنگ سائیڈ کو نوبال کا ایک رن ملے گا، فیئر کیچ نہ ہونے کی صورت میں بیٹنگ سائیڈ نے جتنے رنز لیے ہوں اُتنے ہی ملیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بیٹنگ سائیڈ کرکٹ میں

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی