علامہ شہنشاہ نقوی پر توہین صحابہ کے الزام کی مہم، شیعہ رہنماؤں کی پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران رہنماؤں نے کہا کہ کیا آپ اپنے مدرسوں میں، کیا آپ اپنے اجتماعات کے اندر اپنے عقائد کو بیان نہیں کرتے؟ کیا ہم بھی وہی رویہ اختیار کریں کہ جب آپ اپنے عقائد کو بیان کریں اور وہ ہمارے عقائد کے خلاف ہو تو ہم بھی ایسے ہی ریلیاں نکالیں؟ ہم بھی ایسے ہی ایف آئی آر کی باتیں کریں۔ اسلام ٹائمز۔ پاک محرم ہال کراچی میں شیعہ اکابرین ملت جعفریہ کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ محرم الحرام کے ایام تمام مسلمانوں کے مقدس ایام ہیں، تمام لوگوں کو مل کر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری، ان کی سیرت، ان کے کارنامے اور ان کی قربانی کو یاد کرنا ہے مگر پاکستان میں ایک عرصے سے تکفیری ٹولہ مسلسل منفی اور سب سے ہٹ کر اپنا منفی کردار ادا کرتا ہے۔ پریس کانفرنس کے شرکاء میں علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ صادق جعفری، سید شبر رضا، ایس ایم نقی، غیور عباس، علامہ نقی نقوی، سرور علی اور دیگر شامل تھے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پچھلے دنوں پشاور میں عید سعیدِ غدیر کے اجتماع سے امام بارگاہ کے اندر میلاد سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ پاکستان علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے جو گفتگو کی وہ ہمارے عقائد پر مشتمل گفتگو ہے، پوری ملت جعفریہ کے وہی عقائد ہیں جو انہوں نے بات کی، وہ اپنے مجمع میں بات کر رہے تھے اور غدیر کے میدان میں جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السّلام کو من کنت مولا کہہ کر اعلان کیا تو سوا لاکھ صحابہ کرام نے مولا علیؑ کی ولایت کو تسلیم کیا لہذا کوئی صحابہ کی توہین کا پہلو نہیں تھا، آج کے لوگوں کے لیے پیغام تھا کہ جیسے صحابہ کرام اور تابعین نے مولا علیؑ کی ولایت کا اقرار رکھا اور اہلِ تشیع و اہلِ سنت علمائے متقدمین نے مولا علیؑ کے فضائل اور مولا علی کے ولایت کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں، تو آج کے مسلمانوں کو بھی یہ کلمہ پڑھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کی ان کی گفتگو تھی وہ اگر اپ کو ناگوار ہے تو نہ پڑھیں نہ بولیں لیکن ان کی جو گفتگو تھی ایک تو امام بارگاہ کے اندر تھی۔
رہنماؤں نے کہا کہ کیا آپ اپنے مدرسوں میں، کیا آپ اپنے اجتماعات کے اندر اپنے عقائد کو بیان نہیں کرتے؟ کیا ہم بھی وہی رویہ اختیار کریں کہ جب آپ اپنے عقائد کو بیان کریں اور وہ ہمارے عقائد کے خلاف ہو تو ہم بھی ایسے ہی ریلیاں نکالیں؟ ہم بھی ایسے ہی ایف آئی آر کی باتیں کریں؟ کیا آپ نے یہ بات کیوں کر دی ہے؟ آپ نے اپنے لئے کی ہے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے، کیجئے سو دفعہ کیجئے ایک ہزار دفعہ کیجئے مگر یہ آپ کو حق نہیں دیا جائے گا کہ ہم اگر اپنے اجتماعات کے اندر اپنے عقائد کو بیان کر رہے ہوں، مجالس کے اندر محافل کے اندر تو اپ کو ان کے اوپر اعتراض ہو، ہم بالکل حق نہیں دیں گے، علامہ سید شہنشاہ نقوی کے حوالے سے اگر اس طرح کی بات ہو رہی ہے کہ ایف آئی آر کاٹی جائے اور گرفتاری کی جائے اور یہ کیا جائے اور وہ کیا جائے تو یاد رکھیں وہ خطیبِ پاکستان ہیں، وہ مرکزی مجالس سے خطاب کرتے ہیں اگر ان کے لیے معمولی سی بھی کوئی منفی کردار ادا کیا گیا تو پورے پاکستان کے شیعہ ایک اواز ایک جان ہو کر ان کا ساتھ دیں گے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام کے سیوک مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں، میر کراچی نے اب تک جتنے وعدے کیے وہ سب جھوٹ پر مبنی تھے، آج کے دن تک کراچی کے امام بارگاہوں کے اعتراف میں گندگی غلاظت کے انبار لگے ہوئے ہیں، اگر ہمارے سوک مسائل حل نہ ہوئے تو ہم احتجاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اپنے عقائد کو ہم بھی ایسے ہی نے مولا علی کیا آپ اپنے نے کہا کہ کے اندر
پڑھیں:
بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔