کوٹ رانجھا میں افسوسناک حادثہ، دیوار گرنے سے 2 بچے جاں بحق، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
سرائے مغل:
سرائے مغل کے نواحی علاقے کوٹ رانجھا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خستہ حال دیوار گرنے سے دو کم سن بچے جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔
حادثے کے وقت بچے درخت سے جامن توڑنے کے لیے گزر رہے تھے کہ اچانک دیوار ان پر آگری۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت 10 سالہ سجاد اور 8 سالہ سفیان کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی بچے کی شناخت 8 سالہ ریاض کے طور پر کی گئی ہے۔
زخمی بچے کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پتوکی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کا سبب دیوار کی بوسیدگی اور حالیہ بارشیں بنیں، جس نے کمزور دیوار کو مزید نقصان پہنچایا۔ بچے اتفاقاً وہاں سے گزر رہے تھے جب دیوار گر گئی۔
ورثاء کے مطابق ایک جاں بحق بچے کے والد خود بھی چند ماہ قبل یوار کے نیچے آکر شدید زخمی ہو چکے تھے، اور اس حادثے کے نتیجے میں ان کی ٹانگ کاٹنا پڑی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔