نئی مجلس، جلوس کی اجازت نہیں ہوگی، پنجاب حکومت کا انوکھا فیصلہ، دفعہ 144نافذ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
جلوس کے راستوں میں موجود عمارتوں کی چھتوں پر پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا کچرا جمع کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ جلوس کے دوران راستے میں واقع عمارتوں کی چھتوں یا دکانوں کے تھڑوں پر بطور تماشائی موجودگی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کی سکیورٹی کے پیشِ نظر صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ پنجاب بھر میں آج سے 10 محرم الحرام بمطابق 27 جون تا 6 جولائی دفعہ144 نافذ رہے گی۔ دفعہ 144 کے تحت پنجاب میں 7 قسم کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ محرم الحرام کے منظور شدہ جلوسوں اور مجالس کے علاوہ کوئی نئی مجلس نہیں ہوگی اور نہ کوئی نیا جلوس نکالا جائے گا۔ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار اور آتش گیر مواد کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ عوامی جذبات، عقیدوں اور فرقوں کو بھڑکانے والے اشتعال انگیز نعروں اور اشاروں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ذرائع یا ڈیوائس سے فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت کو ہوا دینے والے بیانات اور تبصروں پر دفعہ144 نافذ ہوگی۔ جلوس کے راستوں پر واقع مکانات یا دیگر عمارتوں کی چھتوں پر مورچوں کی تعمیر پر پابندی ہو گی۔
جلوس کے راستوں میں موجود عمارتوں کی چھتوں پر پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا کچرا جمع کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ جلوس کے دوران راستے میں واقع عمارتوں کی چھتوں یا دکانوں کے تھڑوں پر بطور تماشائی موجودگی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔ ڈبل سواری کےعلاوہ تمام پابندیوں کا اطلاق یکم سے 10 محرم الحرام تک ہوگا۔ ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق صرف 9 اور 10 محرم الحرام کو ہوگا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ عوامی آگاہی کیلئے حکم نامے کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پابندی عائد محرم الحرام عائد کی گئی پر پابندی کی گئی ہے جلوس کے
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔