فلم سردار جی 3 کی پاکستان میں ریلیز، پاکستانی اس پر کیا کہہ رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر اور پنجابی اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’سردار جی 3‘ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز کی جا رہی ہے جبکہ بھارت میں اس فلم پر پابندی عائد ہے۔
بھارت میں دلجیت دوسانجھ اور فلم میں شامل دیگر بھارتی اداکاروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہاہے جبکہ ہانیہ عامر کی فلم کو پاکستانی اداکار اور مداح کھل کر سپورٹ کر رہے ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بجائے انڈیا جانے کے یہ لڑکی گلشن گروور، نیرو باجوہ اور دلجیت دوسانجھ کو پاکستان لے آئی ہے‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’چلیں پڑوسیوں کو پاکستانی اسٹائل میں خوش آمدید کہتے ہیں‘۔
ایک صارف نے لکھا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو بھی اس فلم کو دیکھے وہ گرم چائے کے ایک کپ کے ساتھ فلم سے لطف اندوز ہو۔ جبکہ ایک صارف نے کہا کہ ’مائنس انڈیا فارمولا کام کر گیا‘۔
واضح رہے کہ سردار جی 3 کو آج 27 جون کو ریلیز کیا جا رہا ہے تاہم بھارت میں اس فلم کی ریلیز نہیں ہوگی۔ یہ ایک کامیڈی فلم ہے جس میں دلجیت دوسانجھ اور ہانیہ عامر کو بھوتوں کا پیچھا کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایک انٹرویو میں دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ جب انہوں نے یہ فلم سائن کی تب بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات ٹھیک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سی چیزیں ہوئیں جو ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ جب پہلگام حملہ ہوا تو پروڈیوسرز کو معلوم تھا کہ اب یہ فلم بھارت میں ریلیز نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ فلم بیرونِ ملک ریلیز کریں گے کیونکہ انہوں نے اس پر بہت پیسہ لگایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ سردار جی 3 ہانیہ عامر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ ہانیہ عامر دلجیت دوسانجھ ہانیہ عامر بھارت میں انہوں نے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔