بھارتی پنجابی اداکارہ نیرو باجوہ نے اپنی نئی فلم ’سردار جی 3‘ میں ساتھ کام کرنے والی اداکارہ ہانیہ عامر کو سوشل میڈیا پر اَن فالو کردیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ نیرو باجوہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل سے سردار جی 3 کی تمام پروموشنل پوسٹ بھی حذف کردی ہیں جس سے صارفین میں تشویش کی ایک لہر دوڑ اُٹھی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ نیرو باجوہ کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کو سوشل میڈیا سے بھی ان فالو کر دیا اور فلم سے متعلق تمام پوسٹ بھی ڈیلیٹ کردیں۔

https://www.

instagram.com/p/DLXvwdPtY8X/

یاد رہے کہ سردار جی 3 کی شوٹنگ پاک بھارت جنگ اور کشیدگی سے قبل ہوئی تھی جبکہ جنگ کے بعد بھارتی انتہا پسندوں نے فلم میکرز سے مطالبہ کیا کہ یا اس فلم سے ہانیہ عامر کو نکال دیں یا پھر یہ فلم کا بائیکاٹ برداشت کریں۔

تاہم میکرز نے فلم کو بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا جو آج 27 جون کو ریلیز ہورہی ہے۔ اس حوالے سے فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر میکرز فلم کو بیرون ملک ریلیز کرنا چاہتے ہیں تو میں ان کیساتھ ہوں کیونکہ اس فلم میں انہوں نے بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہانیہ عامر کو نیرو باجوہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل