شوریٰ کی منظوری کے بعد IAEA سے معاہدہ معطل کرنا لازمی ہوگیا، ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ معاہدے کی معطلی اب ایران پر لازم ہو چکی ہے کیونکہ شوریٰ نگہبان نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل کی توثیق کر دی ہے۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا: “IAEA سے معاہدے کی معطلی اب قانونی طور پر ہم پر فرض ہے۔ ہم اس قانون کے پابند ہیں اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا IAEA کے ساتھ تعاون اب ایک نئی شکل اختیار کرے گا اور اس میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ نے حالیہ دنوں ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت IAEA کے ساتھ تعاون کو محدود یا معطل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب شوریٰ نگہبان نے اس بل کو قانونی حیثیت دے دی ہے، جس کے بعد ایرانی حکومت پر اس پر عمل درآمد لازم ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔