ایران، شوریٰ نگہبان کی آئی اے ای اے سے تعاون معطل کرنے کی توثیق
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی کا بل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا، ہم اس بل کے پابند ہیں اور اسکے نفاذ میں کوئی شک نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی شوریٰ نگہبان نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے تعاون معطل کرنے کی توثیق کردی۔ ایرانی پارلیمنٹ پہلے ہی آئی اے ای اے سے تعاون روکنے کا بل منظور کرچکی ہے۔ اس حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی کا بل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا، ہم اس بل کے پابند ہیں اور اس کے نفاذ میں کوئی شک نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ ہمارا تعلق اور تعاون ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔
واضح رہے کہ 25 جون کو ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طرز عمل پر اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ بل کے حق میں 221 ووٹ ڈالے گئے، کسی نے بل کے خلاف ووٹ نہیں دیا، صرف ایک رکن پارلیمنٹ نے ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا، تاہم اس اقدام کی حتمی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعاون معطل کرنے آئی اے ای اے کے ساتھ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔