کرسٹیانو رونالڈو کا بڑا فیصلہ، دنیا بھر میں مداح خوشی سے جھوم اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
عالمی فٹبال کے سپر اسٹار کریسٹیانو رونالڈو نے سعودی کلب النصر کے ساتھ اپنا معاہدہ 2027 تک باضابطہ طور پر توسیع دے دی ہے۔ النصر کلب نے جمعرات کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس خبر کی تصدیق کی، جس کے بعد دنیا بھر میں رونالڈو کے مداح خوشی سے جھوم اٹھے۔
النصر کا اعلانسعودی عرب کے ممتاز کلب النصر نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے ساتھ لکھا ہوا تھا: کہانی چلتی رہے گی، جبکہ ویڈیو کے آخر میں رونالڈو سمندر کے کنارے چلتے ہوئے کہتے ہیں:
’النصر ہمیشہ کے لیے!‘
The Story continues.
pic.twitter.com/XV8WoOREeB
— AlNassr FC (@AlNassrFC_EN) June 26, 2025
اس کے فوراً بعد کلب نے تحریری اعلان جاری کیا:
کرسٹیانو رونالڈو 2027 تک @AlNassrFC کے ساتھ رہیں گے۔
ایکس پیغامدوسری طرف رونالڈو نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا :
’ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔ وہی جذبہ، وہی خواب۔ آئیے مل کر تاریخ رقم کریں!‘
A new chapter begins. Same passion, same dream. Let’s make history together. ???????? pic.twitter.com/JRwwjEcSZR
— Cristiano Ronaldo (@Cristiano) June 26, 2025
رونالڈو کی کارکردگی40 سالہ رونالڈو نے پچھلے سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 25 گولز کے ساتھ پرو لیگ کے ٹاپ اسکورر کا اعزاز حاصل کیا، تاہم ان کی ٹیم النصر ٹرافی جیتنے میں ناکام رہی اور لیگ میں تیسری پوزیشن پر آئی۔
سعودی فٹبال میں انقلابرونالڈو نے جنوری 2023 میں النصر کلب میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد سعودی عرب میں بڑے یورپی کھلاڑیوں کی آمد کا آغاز ہوا۔
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے ایک نمائندے کے مطابق:
’رونالڈو کی موجودگی نے سعودی لیگ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ ان کی موجودگی نے دیگر عالمی ستاروں اور نوجوان ٹیلنٹ کے لیے راستے کھولے ہیں۔‘
سعودی عرب کی مستقبل پر نظریاد رہے کہ سعودی عرب 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا، اور ایسے میں رونالڈو جیسے بڑے ناموں کی موجودگی مملکت کے عالمی فٹبال منظرنامے میں نمایاں ہونے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
النصر کلب سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 کرسٹیانو رونالڈو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: النصر کلب فیفا ورلڈ کپ 2034 کرسٹیانو رونالڈو رونالڈو نے کے ساتھ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں