سپریم کورٹ فیصلے پرنمبر گیم تبدیل ، خیبرپختونخوا حکومت خطرے میں؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی نمبر گیم میں بڑی تبدیلی آ گئی، جس سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حکومت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے تحت صوبائی اسمبلی کی 25 مخصوص نشستیں خالی قرار دی گئی ہیں، جن پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان براجمان تھے۔ اس کے نتیجے میں ایوان میں حکومت کی برتری کم اور اپوزیشن کی طاقت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ایوان میں موجود پانچ جماعتوں کے 27 ارکان سمیت اپوزیشن کی مجموعی تعداد 53 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 35 آزاد ارکان کے پاس اب بھی کلیدی حیثیت ہے۔
علی امین گنڈا پورکی حکومت کو 93 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جن میں سے 58 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، مگر ان کی حیثیت آزاد قرار دی جا چکی ہے۔ یہی حیثیت انہیں فلور کراسنگ کے قانون (آرٹیکل 63 اے) سے بھی بچاتی ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 73 ارکان درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اگر اپوزیشن آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ 88 ارکان کا نمبر پورا کر سکتی ہے، جو حکومت کو بڑا سیاسی جھٹکا دے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی اور یہ نشتیں حکومتی اتحاد کو منتقل ہوجائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت