تہران :اسرائیلی حملوں میں شہید سائنسدانوں، فوجی کمانڈرز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
تہران :اسرائیلی حملوں میں شہید سائنسدانوں، فوجی کمانڈرز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز
تہران (آئی پی ایس) تہران میں اسرائیل کی جارحیت اور بمباری کے دوران شہید ہونے والے سائنسدانوں اور فوجی افسران کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ کے اجتماع میں پورا شہر امڈ آیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں ایرانی آج صبح تہران کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے تاکہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی شہدا جن میں سینئر کمانڈرز اور عام شہری شامل ہیں، ان کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔
تہران میں جنازے کا جلوس باضابطہ طور پر شروع ہوا، اور ہزاروں سوگوار شہدا کے قومی پرچم میں لپٹے تابوتوں کے ساتھ غم و احترام کے ساتھ شریک ہوئے، نماز جنازہ کے اجتماع میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی شریک تھے، ایرانی مسلح افواج کے اعلیٰ افسران، وزرا نے بھی نماز جنازہ کے اجتماع میں شرکت کی۔
انقلاب چوک اور تہران یونیورسٹی کے ارد گرد کی سڑکیں ان لوگوں سے بھری ہوئی تھیں، جو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔
دارالحکومت کی فضا غم، یکجہتی، اور اُن افراد کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے جذبے سے بوجھل ہے، جنہوں نے حالیہ اسرائیلی جارحیت میں اپنی جانیں قربان کیں۔
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے جنگ کا آغاز کیا تھا، اور پہلے ہی دن ایران کے متعدد اعلیٰ فوجی رہنما، جوہری سائنسدان اور عام شہری شہید ہو گئے تھے۔
اسی رات سے ایران کے جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جوابی حملوں میں تل ابیب اور حیفہ سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں میں فوجی اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اس کے بعد دونوں جانب سے مسلسل 12 روز ایک دوسرے پر تواتر سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
22 جون کو امریکا بھی ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہوگیا اور امریکی طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر بمباری کی، 23 جون کی رات ایران نے آپریشن ’بشارت فتح‘ کے تحت عراق اور قطر میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
24 جون کو قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایران کو اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ کیا، جب کہ تہران نے بھی امریکی تجویز پر اتفاق کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کا اعلان کیا اور دونوں جانب سے جنگ بندی نافذ ہوگئی، جو تاحال برقرار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی کرپٹو پالیسی ناکام، پاکستانی حکمت عملی عالمی سطح پر کامیاب قرار بھارتی کرپٹو پالیسی ناکام، پاکستانی حکمت عملی عالمی سطح پر کامیاب قرار مریم نواز کا جنوبی پنجاب کے 24 اضلاع کیلئے بڑا اعلان دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک اور سیاح کی لاش نکال لی گئی، مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئی عدنان قتل کیس: سابق سینیٹر چودھری تنویر کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ، صدر یونیورسٹی آف ورجینیا بھی مستعفی امریکا میں پیدا بچوں کی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حملوں میں
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔