محرم تاریخ اسلام کی عظیم شہادتوں کی یاد دلاتا ہے ‘حافظ ادریس
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کے رہنما حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام تاریخ اسلام کی عظیم ترین شہادتوں کی یاد یں تازہ کردیتاہے۔ یکم محرم الحرام کو دنیا کو پہلی فلاحی ریاست کا نظام دینے والے حضرت عمر فاروق ؓ اور دسویں محرم کو حضرت امام حسین ؓ اپنے خاندان سمیت شہید کردیے گئے ۔حضرت امام حسین ؓ کی شہادت قیامت تک آنے والے مسلمانوںکو یہ درس دیتی ہے کہ ظلم کے نظام کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے جان پر کھیل جانا ہی اصل زندگی ہے ۔ حضرت امام حسین ؓ کے اسوہ پر چلنے والے کسی صورت بھی ظلم کے نظا م کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔حافظ محمد ادریس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں اور خواتین کا قتل عام کیا ۔پوری دنیا نے اس کی شدیدمذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا مگر امریکا نے اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرکے ثابت کردیا کہ دنیا میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکا ہے ۔ ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والے اسرائیل کو اس کے مظالم کی سزا ضرور ملے گی ۔غزہ کے شہدا کاخون رائیگاں نہیں جائے گا وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل عبرت کا نشان بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف غزہ کے معصوم بچے اپنے پاکیزہ خون سے شہادتوں کی اس عظیم داستان میں رنگ بھر رہے ہیں اور دوسری طرف عالم اسلام کے حکمران امریکا کی غلامی قبول کرکے ٹرمپ کی چاپلوسی میں لگے ہوئے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے والے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔