سپریم کورٹ کا فیصلہ مایوس کن، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں مینڈیٹ چوروں کو دے دی گئیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں سے پی ٹی آئی کو محروم رکھ کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ پارٹی کے 39 امیدواروں کے نوٹیفکیشن کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا، اس کے باوجود مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کے بجائے دیگر جماعتوں کو منتقل کردی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں ٹرانسفر کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی
انہوں نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ فل بینچ کے ساتھ نظرثانی کرتا تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا، لیکن موجودہ فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف ان ارکان کے لیے مخصوص نشستوں کا مطالبہ کررہے تھے جو سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاکہ باقی صوبوں میں بھی منتخب نمائندوں کے نوٹیفکیشن فوری جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 859 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا اور 15 فروری کو ہمارے آزاد امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری ہوئے۔ ہم نے اسی دن سنی اتحاد کونسل سے الحاق کی دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں، لیکن 22 فروری کو الیکشن کمیشن نے 78 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دیں، حالانکہ انہیں عارضی طور پر خالی بھی رکھا جا سکتا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ الیکشن کمیشن نے 85 ارکان کے نوٹیفکیشن 25 مارچ کو جاری کیے، لہٰذا باقی ایم این ایز اور ایم پی ایز کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے جائیں۔
انہوں نے موجودہ عدالتی ماحول پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آج انصاف کا حصول 90 کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنماؤں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں، جو ملکی سیاسی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ججز ٹرانسفر کے عمل میں 4 جوڈیشل فورمز سے رائے لی گئی، جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس
بیرسٹر گوہر علی خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انصاف ناپید ہو جائے تو قومیں اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو چکے ہیں اور وہ اسی پلیٹ فارم پر قائم رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی مخصوص نشستیں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی مخصوص نشستیں وی نیوز کے نوٹیفکیشن مخصوص نشستیں الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر سپریم کورٹ پی ٹی آئی انہوں نے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس