سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات پر سیاسی و صحافتی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، معروف سینیٹر، دانشور اور سابق مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی کے انتقال نے ملک کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان کی وفات پر سیاسی و صحافتی حلقوں سمیت علمی دنیا نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جمہوریت، دانش اور تہذیب کا روشن استعارہ قرار دیا ہے۔ ملکی قیادت نے بھی ان کی علمی، فکری اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات سے پاکستان نے ایک ایسی آواز کھو دی ہے جو دلیل، برداشت اور شائستگی کی علامت تھی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ عرفان صدیقی نے ہمیشہ جمہوری اقدار کے فروغ، قلم کی حرمت اور فکری آزادی کے لیے کام کیا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تحریروں اور گفتگو کے ذریعے معاشرتی سنجیدگی اور فکری برداشت کو زندہ رکھا۔
صدر زرداری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و حوصلہ دے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عرفان صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم و ادب کے امین، بردبار استاد اور اصول پسند مفکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے عرفان صدیقی نے نہ صرف سیاسی بصیرت بلکہ فکری قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی تحریریں قومی سوچ میں گہرے اثرات چھوڑ گئی ہیں۔
وزیراعظم نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے عرفان صدیقی کی وفات کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی نہ صرف ایک بااعتماد ساتھی تھے بلکہ ایک مخلص، روشن فکر اور عاجز انسان تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا قلم آزادی اظہار کا استعارہ تھا اور ان کی فکری گہرائی نے پاکستانی صحافت و سیاست دونوں میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا ہے اور ان کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی نے سیاست اور صحافت دونوں میں اصول پسندی، تہذیب اور شرافت کی مثال قائم کی۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جو اختلاف کے باوجود احترام کے قائل تھے اور یہی ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ محسن نقوی نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات پاکستانی سیاست کا بڑا نقصان ہے۔ عرفان صدیقی وقار اور متانت کا پیکر تھے جنہوں نے سیاست میں شائستگی کی وہ روایت قائم کی جو آج بھی مثال ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور انہیں اصول پسندی، شرافت اور مہذب سیاست کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی گفتگو میں شائستگی، سوچ میں گہرائی اور طرزِ عمل میں وقار تھا، جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
دوسری جانب ملکی صحافی برادری کی جانب سے بھی سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ان کی شخصیت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے مختلف پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عرفان صدیقی کی وفات کہا کہ عرفان صدیقی انہوں نے کہا کہ شریف نے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔