Daily Ausaf:
2026-06-03@08:31:23 GMT

خطرے کی گھنٹی یاحوصلے کاپرچم؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

جب تاریخ قلم اٹھاتی ہے،تومحض واقعات کاردیف قافیہ مرتب نہیں کرتی،بلکہ زمانے کے دھڑکتے ہوئے نبضوں کوالفاظ کے قالب میں ڈھالتی ہے۔جب تاریخ کی زلفِ پریشاں میں خون کی مہک بسی ہواورسیاست کی پیشانی پربارودکی لکیرابھرآئے،تب ایک معمولی واقعہ بھی تاریخ کا رخ موڑدیتاہے۔پہلگام حملہ،جس نے دونوں ملکوں کوکشیدگی کے نازک پل پر لاکھڑا کیا، محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں کئی تہیں چھپی ہیں۔پہلگام کے دھماکہ خیزلمحے نے ایک بارپھربرصغیرکے دوایٹمی ہمسایوں بھارت اور پاکستان کواس موڑپرلاکھڑاکیاجہاں ایک لفظ،ایک گولی یاایک پرچم کی جنبش پوری دنیا کے امن کولرزاسکتی ہے۔یہ صرف سرحدوں کی گرج نہیں تھی،بلکہ دلوں کے دھڑکنے ،ذہنوں کے جلنے اوربیانیوں کے بننے بگڑنے کاموسم تھا۔ گزشتہ دنوں ایک ٹل جانے والی قیامت کاہرپل نہ صرف حالیہ تناظرکااحاطہ کرتاہے بلکہ ماضی کی گواہی بھی ساتھ لیے ہوئے چیخ چیخ کرعبرت دلا رہا ہے۔
مئی2025ء کے آغازپرہونے والے اس چارروزہ تنازع میں پاکستانی فوج نے نہ صرف اپنے دشمن کومنہ توڑجواب دیابلکہ یہ یقین بھی دلادیاکہ وہ اب محض دفاعی قوت نہیں بلکہ حکمتِ عملی سے لیس ایک مربوط عسکری ادارہ ہے۔یہ مظاہرہ پہلی بارنہیں تھا۔1965ء اور 1999ء کی جنگیں اس حقیقت کابین ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج،عددی لحاظ سے بڑے دشمن کے خلاف بھی مؤثردفاع کرسکتی ہے۔اس باربھی،بھارت کوجس برق رفتاری، ٹیکنالوجی،اورغیرمتوقع ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا، وہ عسکری اصطلاح میں جنگی مہارت میں حیران کن کارکردگی ثابت ہواہے جس سے پاکستانی فوج کے عسکری اعتمادنے جہاں بھارت اور اسرائیل کوناکوں چنے چبوائے وہاں اس کے اتحادیوں کیلئے بھی حیران کن ثابت ہوا ہے ۔ پاکستانی عسکری قوت نے اس جھڑپ میں وہ کچھ دکھایا جوبسااوقات عسکری نظریے کی نصابی کتابوں میں بھی صرف تصورہی کی حدتک موجود ہوتا ہے۔فوجی توازن کے عالمی پیمانوں پراگرچہ پاکستان کوعددی برتری حاصل نہیں،مگرجس جرات،چابکدستی اور حکمت عملی سے اس نے بیک وقت کئی محاذوں پراپنی موجودگی کااحساس دلایا،وہ بھارت کیلئے ناقابلِ تصورتھی۔اس عسکری رسوخ نے داخلی طورپربھی ایک نئی جہت کوجنم دیا۔
جنرل عاصم منیر،جوکبھی سیاسی پس منظر کی دھندمیں تنقیدکے نشترسہہ رہے تھے،آج اسی فوجی کامیابی کے صدقے ایک مقبول قومی علامت کے طورپرابھرے ہیں۔ان کی قیادت میں پاکستانی افواج نے نہ صرف دشمن کی عسکری پیش قدمی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی،بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کواجاگرکرنے کی مہم میں بھی پیش پیش رہی۔ادھر دوسری طرف چین کی خارجہ پالیسی کی بنیادی روح’’توسیع نہیں، تسلط‘‘ پر مرکوزہے۔ وہ براہِ راست مداخلت کی بجائے اپنے اتحادیوں کے ذریعے طاقت کامظاہرہ کرتا ہے۔ پاکستان اس پالیسی میں اس کاسب سے بڑا تزویراتی ہتھیارہے۔اس واقعہ کے جغرافیائی اثرات محض دہلی اور اسلام آباد تک محدود نہیں رہے۔ چین، جوپہلے ہی لداخ کے دھندلکوں میں بھارت سے نبردآزماہے،اب پاکستان کی دفاعی کارکردگی کو اپنے حق میں ایک مظبوط دلیل کے طورپردیکھ رہا ہے۔ لداخ میں بھارت سے تناؤ،تائیوان میں امریکی حمایت یافتہ خودمختاری کی تحریک،اوربحیرہ جنوبی چین میں نیوی کی مشقیںان تمام محاذوں پر چین اب ایک نئی’’ملٹری ٹیکنالوجیکل پاور‘‘کے طور پر ابھررہاہے۔
چین،جوخطے میں اپنی بالادستی کے خواب کوحقیقت میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہے،پاکستان کی عسکری مستعدی کواپنے لیے تقویت سمجھتا ہے۔ لداخ اورگلوان میں بھارت کے ساتھ پہلے ہی اس کا تناؤجاری ہے۔ایسے میں پاکستانی فورسز کا حوصلہ،بہادری،تجربہ کاری کا دفاعی ردعمل چین کیلئے جہاں ایک تزویراتی اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے وہاں چین کی قوت کو تقویت اورعالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے وکٹری سٹینڈپربرتری کے درجے پرکھڑاکردیاہے۔پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، چین کے اس مفروضے کوتقویت بخشتی ہے کہ جنوبی ایشیامیں بھارت کی عسکری بالادستی اب ایک خوابِ نیم شب ہوچکی ہے۔
بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ ہویاسی پیک،چین کی سوچ معاشی راستوں سے فوجی راہداری تک جاپہنچی ہے۔اس حالیہ تنازع میں پاکستان کی مستعدی نے چین کوایک ایسادفاعی’’ کلیمور‘‘ فراہم کیاہے جو نہ صرف بھارت کی توسیع پسندی کوچیلنج کرتاہے بلکہ امریکاکوبھی یہ پیغام دیتاہے کہ ایشیااب یک قطبی نہیں رہا۔یہ وہی مثلث ہے جو1971ء میں امریکا، چین اور پاکستان کے درمیان دکھائی دی تھی،جب ہنری کسنجرنے پاکستان کے ذریعے چین کا دورہ کیاتھا۔آج بھی وہی رشتہ نئی شکل میں قائم ہے۔یوں یہ تنازع صرف دوہمسایہ ممالک کے درمیان ایک وقتی کشیدگی نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کی صف بندی کاایک آئینہ بھی ہے۔
یادرہے کہ بھارت نے گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان سے سفارتی فاصلہ رکھنے کی پالیسی اختیارکی تھی لیکن حالیہ کشیدگی نے اسے ایک بارپھراس دائرے میں کھینچ لیاہے جہاں اسے پاکستان کوبراہ راست جواب دیناپڑتاہے۔یہ خارجہ پالیسی کی وہ لغزش ہے جس کااندازہ نہروکے دورمیں بھی ہواتھاجب1962ء کی چین-بھارت جنگ میں بھارت کوعالمی حمایت حاصل کرنے کیلئے عجلت میں فیصلے کرنے پڑے۔
سیاست میں لفظ بھی ایک ہتھیار ہے،اوربیانیہ وہ میزائل جودلوں اوراذہان کونشانہ بناتا ہے۔اس کشمکش میں جہاں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں ’’سندور‘‘ کی قسم کھاکرقوم پرستی کے دیوتاکوپکاررہے تھے،وہیں پاکستان نے اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیاکہ دہلی خودخطے کوجنگ کے دہانے پر لارہاہے۔مودی کایہ کہناکہ’’میری رگوں میں سندور بہتاہے‘‘ایک مذہبی علامت سے زیادہ، سیاسی اسلحہ تھاجس سے بھارت کی داخلی سیاست کو گرمایا گیالیکن سوال یہ ہے کہ کیاقومی مفادات کے محافظین کے ہاتھ میں جذبات کی شعلہ بیانی ایک محفوظ ہتھیارہے؟
نریندرمودی کاانتخابی جلسے میں وہ بیان کہ ’’میری رگوں میں سندوربہتاہے۔۔۔۔سکھ چین سے روٹی کھاؤورنہ میری گولی توہے ہی‘‘ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کی ایٹمی سلامتی کے منہ پرایک کھلاطمانچہ ہے جس کے ذریعے مذہبی جذبات کوہوادے کر قوم پرستی کاپرچم بلند کیا گیا لیکن نہ تویہ طرزِخطاب تاریخ میں نیانہیں بلکہ اس کاشرمناک انجام بھی تاریخ نے محفوظ کر رکھا ہے تاکہ دنیااس سے عبرت حاصل کرے۔اس طرح کی دھمکی آمیز،بازاری اورمعاندانہ زبان نہ صرف بین الاقوامی آدابِ سیاست کی توہین ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی روح کی بھی منافی ہے۔ ایسی زبان،ایسی سنگینی،ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کے شعلوں میں گھراہو،غیرمعمولی تشویش کاباعث بن گئی ہے۔عالمی میڈیا ،سفارتی حلقے، اورامن پسند قومیں اس طرزِبیان پرحیران ہیں کہ ایک ایٹمی ریاست کاوزیراعظم کس بے باکی سے جنگی ترانے گاتاہے۔
تاریخ میں اگرچہ سیاست دانوں نے جرات آمیزالفاظ کہے ہیں،مگرکبھی بھی اس حد تک شخصی انتقام کی آگ کوانتخابی ایندھن نہیں بنایا گیا۔اندراگاندھی نے1971ء میں مشرقی پاکستان کے خلاف جنگ سے قبل بھی اسی قسم کی تقاریر کی تھیں اور1971ء میں اندراگاندھی نے بنگلہ دیش کے تناظرمیں تلخ بیانات ضروردیے تھے، مگرایسی دھمکی آمیززبان استعمال کرنے سے انہوں نے بھی گریزکیاتھا۔مودی کی تقاریر،اس کے برعکس،ہندوتوانظریے،نفرت،اورذاتی غرور کا پرچاربن چکی ہیں۔انتخابات جیتنے کیلئے مودی کا یہ نیاڈرامہ کوئی نیا نہیں،اس سے قبل بھی گجراتی قصاب نے بطورانڈین گجرات کے وزیراعلی ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کانہ صرف حکم دیابلکہ اب بھی انڈیامیں مسلمانوں کے خاتمے کیلئے کھلم کھلابیان بازی کرتارہتاہے۔مودی کی گولی والی دھمکی نہ صرف اسی سیاسی سکرپٹ کاحصہ ہے بلکہ اس کی مکاری اورذہنی بیماری کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ایٹمی ملک کے ایسے شدت پسند سربراہ سے دنیاکوکس قدرشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے اندرکانگریس جیسی جماعتیں اس موقع پربی جے پی کی خارجہ پالیسی کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو بی جے پی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے تعبیرکر رہی ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ بھارت کی سفارتکاری،جوکبھی ایک عالمی مثال ہوا کرتی تھی، آج ردِعمل اوراشتعال انگیزی کی راہوں پر گامزن ہے اوربھارت کی جارحانہ پالیسی درحقیقت اس کے عالمی تنہائی کاباعث بن رہی ہے۔یہ احتجاج اس بات کی گواہی دیتاہے کہ معاملہ صرف عسکری یاسفارتی نہیں،بلکہ داخلی سیاسی حرکیات کابھی عکاس ہے ۔ خارجہ پالیسی کاناکام ہونا درحقیقت اندرونی سیاسی کشمکش کا اظہار ہے۔ 2002 ء میں گجرات فسادات کے بعدبھی بھارت کو سفارتی سطح پرمشکلات کاسامناکرناپڑاتھا اورآج تک بھارت کے چہرے کی بدترین کالک کے طور پرتاریخ میں رقم ہوچکاہے۔
پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اوران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیابھر کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔کارگل جنگ کے دوران بھی عالمی برادری نے بروقت مداخلت کی تھی تاکہ دوایٹمی ریاستیں کسی حماقت میں نہ پڑ جائیں۔کیاہم آج بھی اسی دہلیزپر کھڑے ہیں؟ کیابرصغیرایک بارپھرتاریخ کی بھٹی میں جھونکا جائے گا؟
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی میں پاکستان پاکستان کی نہیں بلکہ میں بھارت بھارت کے بھارت کی ہے بلکہ چین کی

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے کروڑوں غریب موبائل صارفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی