Daily Ausaf:
2026-07-24@10:46:58 GMT

خطرے کی گھنٹی یاحوصلے کاپرچم؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

جب تاریخ قلم اٹھاتی ہے،تومحض واقعات کاردیف قافیہ مرتب نہیں کرتی،بلکہ زمانے کے دھڑکتے ہوئے نبضوں کوالفاظ کے قالب میں ڈھالتی ہے۔جب تاریخ کی زلفِ پریشاں میں خون کی مہک بسی ہواورسیاست کی پیشانی پربارودکی لکیرابھرآئے،تب ایک معمولی واقعہ بھی تاریخ کا رخ موڑدیتاہے۔پہلگام حملہ،جس نے دونوں ملکوں کوکشیدگی کے نازک پل پر لاکھڑا کیا، محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں کئی تہیں چھپی ہیں۔پہلگام کے دھماکہ خیزلمحے نے ایک بارپھربرصغیرکے دوایٹمی ہمسایوں بھارت اور پاکستان کواس موڑپرلاکھڑاکیاجہاں ایک لفظ،ایک گولی یاایک پرچم کی جنبش پوری دنیا کے امن کولرزاسکتی ہے۔یہ صرف سرحدوں کی گرج نہیں تھی،بلکہ دلوں کے دھڑکنے ،ذہنوں کے جلنے اوربیانیوں کے بننے بگڑنے کاموسم تھا۔ گزشتہ دنوں ایک ٹل جانے والی قیامت کاہرپل نہ صرف حالیہ تناظرکااحاطہ کرتاہے بلکہ ماضی کی گواہی بھی ساتھ لیے ہوئے چیخ چیخ کرعبرت دلا رہا ہے۔
مئی2025ء کے آغازپرہونے والے اس چارروزہ تنازع میں پاکستانی فوج نے نہ صرف اپنے دشمن کومنہ توڑجواب دیابلکہ یہ یقین بھی دلادیاکہ وہ اب محض دفاعی قوت نہیں بلکہ حکمتِ عملی سے لیس ایک مربوط عسکری ادارہ ہے۔یہ مظاہرہ پہلی بارنہیں تھا۔1965ء اور 1999ء کی جنگیں اس حقیقت کابین ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج،عددی لحاظ سے بڑے دشمن کے خلاف بھی مؤثردفاع کرسکتی ہے۔اس باربھی،بھارت کوجس برق رفتاری، ٹیکنالوجی،اورغیرمتوقع ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا، وہ عسکری اصطلاح میں جنگی مہارت میں حیران کن کارکردگی ثابت ہواہے جس سے پاکستانی فوج کے عسکری اعتمادنے جہاں بھارت اور اسرائیل کوناکوں چنے چبوائے وہاں اس کے اتحادیوں کیلئے بھی حیران کن ثابت ہوا ہے ۔ پاکستانی عسکری قوت نے اس جھڑپ میں وہ کچھ دکھایا جوبسااوقات عسکری نظریے کی نصابی کتابوں میں بھی صرف تصورہی کی حدتک موجود ہوتا ہے۔فوجی توازن کے عالمی پیمانوں پراگرچہ پاکستان کوعددی برتری حاصل نہیں،مگرجس جرات،چابکدستی اور حکمت عملی سے اس نے بیک وقت کئی محاذوں پراپنی موجودگی کااحساس دلایا،وہ بھارت کیلئے ناقابلِ تصورتھی۔اس عسکری رسوخ نے داخلی طورپربھی ایک نئی جہت کوجنم دیا۔
جنرل عاصم منیر،جوکبھی سیاسی پس منظر کی دھندمیں تنقیدکے نشترسہہ رہے تھے،آج اسی فوجی کامیابی کے صدقے ایک مقبول قومی علامت کے طورپرابھرے ہیں۔ان کی قیادت میں پاکستانی افواج نے نہ صرف دشمن کی عسکری پیش قدمی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی،بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کواجاگرکرنے کی مہم میں بھی پیش پیش رہی۔ادھر دوسری طرف چین کی خارجہ پالیسی کی بنیادی روح’’توسیع نہیں، تسلط‘‘ پر مرکوزہے۔ وہ براہِ راست مداخلت کی بجائے اپنے اتحادیوں کے ذریعے طاقت کامظاہرہ کرتا ہے۔ پاکستان اس پالیسی میں اس کاسب سے بڑا تزویراتی ہتھیارہے۔اس واقعہ کے جغرافیائی اثرات محض دہلی اور اسلام آباد تک محدود نہیں رہے۔ چین، جوپہلے ہی لداخ کے دھندلکوں میں بھارت سے نبردآزماہے،اب پاکستان کی دفاعی کارکردگی کو اپنے حق میں ایک مظبوط دلیل کے طورپردیکھ رہا ہے۔ لداخ میں بھارت سے تناؤ،تائیوان میں امریکی حمایت یافتہ خودمختاری کی تحریک،اوربحیرہ جنوبی چین میں نیوی کی مشقیںان تمام محاذوں پر چین اب ایک نئی’’ملٹری ٹیکنالوجیکل پاور‘‘کے طور پر ابھررہاہے۔
چین،جوخطے میں اپنی بالادستی کے خواب کوحقیقت میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہے،پاکستان کی عسکری مستعدی کواپنے لیے تقویت سمجھتا ہے۔ لداخ اورگلوان میں بھارت کے ساتھ پہلے ہی اس کا تناؤجاری ہے۔ایسے میں پاکستانی فورسز کا حوصلہ،بہادری،تجربہ کاری کا دفاعی ردعمل چین کیلئے جہاں ایک تزویراتی اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے وہاں چین کی قوت کو تقویت اورعالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے وکٹری سٹینڈپربرتری کے درجے پرکھڑاکردیاہے۔پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، چین کے اس مفروضے کوتقویت بخشتی ہے کہ جنوبی ایشیامیں بھارت کی عسکری بالادستی اب ایک خوابِ نیم شب ہوچکی ہے۔
بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ ہویاسی پیک،چین کی سوچ معاشی راستوں سے فوجی راہداری تک جاپہنچی ہے۔اس حالیہ تنازع میں پاکستان کی مستعدی نے چین کوایک ایسادفاعی’’ کلیمور‘‘ فراہم کیاہے جو نہ صرف بھارت کی توسیع پسندی کوچیلنج کرتاہے بلکہ امریکاکوبھی یہ پیغام دیتاہے کہ ایشیااب یک قطبی نہیں رہا۔یہ وہی مثلث ہے جو1971ء میں امریکا، چین اور پاکستان کے درمیان دکھائی دی تھی،جب ہنری کسنجرنے پاکستان کے ذریعے چین کا دورہ کیاتھا۔آج بھی وہی رشتہ نئی شکل میں قائم ہے۔یوں یہ تنازع صرف دوہمسایہ ممالک کے درمیان ایک وقتی کشیدگی نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کی صف بندی کاایک آئینہ بھی ہے۔
یادرہے کہ بھارت نے گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان سے سفارتی فاصلہ رکھنے کی پالیسی اختیارکی تھی لیکن حالیہ کشیدگی نے اسے ایک بارپھراس دائرے میں کھینچ لیاہے جہاں اسے پاکستان کوبراہ راست جواب دیناپڑتاہے۔یہ خارجہ پالیسی کی وہ لغزش ہے جس کااندازہ نہروکے دورمیں بھی ہواتھاجب1962ء کی چین-بھارت جنگ میں بھارت کوعالمی حمایت حاصل کرنے کیلئے عجلت میں فیصلے کرنے پڑے۔
سیاست میں لفظ بھی ایک ہتھیار ہے،اوربیانیہ وہ میزائل جودلوں اوراذہان کونشانہ بناتا ہے۔اس کشمکش میں جہاں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں ’’سندور‘‘ کی قسم کھاکرقوم پرستی کے دیوتاکوپکاررہے تھے،وہیں پاکستان نے اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیاکہ دہلی خودخطے کوجنگ کے دہانے پر لارہاہے۔مودی کایہ کہناکہ’’میری رگوں میں سندور بہتاہے‘‘ایک مذہبی علامت سے زیادہ، سیاسی اسلحہ تھاجس سے بھارت کی داخلی سیاست کو گرمایا گیالیکن سوال یہ ہے کہ کیاقومی مفادات کے محافظین کے ہاتھ میں جذبات کی شعلہ بیانی ایک محفوظ ہتھیارہے؟
نریندرمودی کاانتخابی جلسے میں وہ بیان کہ ’’میری رگوں میں سندوربہتاہے۔۔۔۔سکھ چین سے روٹی کھاؤورنہ میری گولی توہے ہی‘‘ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کی ایٹمی سلامتی کے منہ پرایک کھلاطمانچہ ہے جس کے ذریعے مذہبی جذبات کوہوادے کر قوم پرستی کاپرچم بلند کیا گیا لیکن نہ تویہ طرزِخطاب تاریخ میں نیانہیں بلکہ اس کاشرمناک انجام بھی تاریخ نے محفوظ کر رکھا ہے تاکہ دنیااس سے عبرت حاصل کرے۔اس طرح کی دھمکی آمیز،بازاری اورمعاندانہ زبان نہ صرف بین الاقوامی آدابِ سیاست کی توہین ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی روح کی بھی منافی ہے۔ ایسی زبان،ایسی سنگینی،ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کے شعلوں میں گھراہو،غیرمعمولی تشویش کاباعث بن گئی ہے۔عالمی میڈیا ،سفارتی حلقے، اورامن پسند قومیں اس طرزِبیان پرحیران ہیں کہ ایک ایٹمی ریاست کاوزیراعظم کس بے باکی سے جنگی ترانے گاتاہے۔
تاریخ میں اگرچہ سیاست دانوں نے جرات آمیزالفاظ کہے ہیں،مگرکبھی بھی اس حد تک شخصی انتقام کی آگ کوانتخابی ایندھن نہیں بنایا گیا۔اندراگاندھی نے1971ء میں مشرقی پاکستان کے خلاف جنگ سے قبل بھی اسی قسم کی تقاریر کی تھیں اور1971ء میں اندراگاندھی نے بنگلہ دیش کے تناظرمیں تلخ بیانات ضروردیے تھے، مگرایسی دھمکی آمیززبان استعمال کرنے سے انہوں نے بھی گریزکیاتھا۔مودی کی تقاریر،اس کے برعکس،ہندوتوانظریے،نفرت،اورذاتی غرور کا پرچاربن چکی ہیں۔انتخابات جیتنے کیلئے مودی کا یہ نیاڈرامہ کوئی نیا نہیں،اس سے قبل بھی گجراتی قصاب نے بطورانڈین گجرات کے وزیراعلی ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کانہ صرف حکم دیابلکہ اب بھی انڈیامیں مسلمانوں کے خاتمے کیلئے کھلم کھلابیان بازی کرتارہتاہے۔مودی کی گولی والی دھمکی نہ صرف اسی سیاسی سکرپٹ کاحصہ ہے بلکہ اس کی مکاری اورذہنی بیماری کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ایٹمی ملک کے ایسے شدت پسند سربراہ سے دنیاکوکس قدرشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے اندرکانگریس جیسی جماعتیں اس موقع پربی جے پی کی خارجہ پالیسی کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو بی جے پی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے تعبیرکر رہی ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ بھارت کی سفارتکاری،جوکبھی ایک عالمی مثال ہوا کرتی تھی، آج ردِعمل اوراشتعال انگیزی کی راہوں پر گامزن ہے اوربھارت کی جارحانہ پالیسی درحقیقت اس کے عالمی تنہائی کاباعث بن رہی ہے۔یہ احتجاج اس بات کی گواہی دیتاہے کہ معاملہ صرف عسکری یاسفارتی نہیں،بلکہ داخلی سیاسی حرکیات کابھی عکاس ہے ۔ خارجہ پالیسی کاناکام ہونا درحقیقت اندرونی سیاسی کشمکش کا اظہار ہے۔ 2002 ء میں گجرات فسادات کے بعدبھی بھارت کو سفارتی سطح پرمشکلات کاسامناکرناپڑاتھا اورآج تک بھارت کے چہرے کی بدترین کالک کے طور پرتاریخ میں رقم ہوچکاہے۔
پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اوران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیابھر کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔کارگل جنگ کے دوران بھی عالمی برادری نے بروقت مداخلت کی تھی تاکہ دوایٹمی ریاستیں کسی حماقت میں نہ پڑ جائیں۔کیاہم آج بھی اسی دہلیزپر کھڑے ہیں؟ کیابرصغیرایک بارپھرتاریخ کی بھٹی میں جھونکا جائے گا؟
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی میں پاکستان پاکستان کی نہیں بلکہ میں بھارت بھارت کے بھارت کی ہے بلکہ چین کی

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا