پاکستان ریلویز کا بڑا اقدام، لاہور سے روس تک مال بردار ٹرین چلانے کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان ریلویز نے لاہور سے روس تک براہِ راست مال بردار ٹرین چلانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں، یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا تجارتی سنگ میل ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان معاشی روابط کو بھی نئی جہت دے گا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ترجمان ریلوے حکام کاکہنا ہےکہ جولائی میں پہلی مال بردار ریل گاڑی روانہ کی جائے گی، جو 16 بوگیوں پر مشتمل ہوگی، یہ گاڑی لاہور سے روانہ ہو کر ایران، ترکمانستان اور قازقستان کے راستے روس کے شہر اسٹراخان پہنچے گی جو اس مال بردار ٹرین کا آخری اسٹیشن ہوگا۔
پاکستان ریلویز کے پبلک ریلیشنز آفیسر بابر رضا کے مطابق اس اقدام سے خطے میں زمینی تجارتی راہداری کو فروغ ملے گا اور پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ براہ راست تجارتی روابط قائم کرنے کا موقع ملے گا، نہ صرف پاکستانی مصنوعات روس، ترکمانستان اور قازقستان تک پہنچیں گی بلکہ ان ممالک سے مختلف اشیا بھی پاکستان لائی جا سکیں گی۔
خیال رہےکہ یہ ٹرین 22 جون کو روانہ ہونی تھی، ایران اسرائیل جنگ کے باعث ٹرین کی روانگی منسوخ کر دی گئی تھی، موجودہ حالات میں بہتری کے بعد پاکستان ریلویز نے اب ایک بار پھر روانگی کی تاریخ مقرر کر دی ہے اور تمام ضروری سیکیورٹی و سفری اقدامات کو مکمل کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان ریلویز مال بردار
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔