بارشوں سے ملک بھر میں خواتین بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، پنجاب میں 13، خیبرپختونخوا میں 21 سندھ میں 7 اور بلوچستان میں 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 23 بچے، 10 خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ بارشوں سے ملک بھر میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کردی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، پنجاب میں 13، خیبرپختونخوا میں 21 سندھ میں 7 اور بلوچستان میں 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 23 بچے، 10 خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔ اسی طرح بارشوں سے اب تک 68 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں میں 26 بچے، 16 خواتین اور 26 مرد شامل ہیں، پنجاب میں حالیہ بارشوں سے 39 افراد، خیبرپختونخوا میں 11 سندھ میں 16 اور بلوچستان میں 2 افراد زخمی ہوئے، بارشوں سے پنجاب میں 19 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پچاس مکانات مکمل جب کہ 10 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے، بلوچستان میں 10 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ علاوہ ازیں حالیہ بارشوں کے دوران ملک بھر میں 9 ریسکیو آپریشن کئے گئے، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ایک، ایک آپریشن کیا گیا جب کہ مجموعی طور پر 135 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا میں اور بلوچستان میں ملک بھر میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔