ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ 2025: پاکستان نے جاپان کو شکست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پاکستان نے ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپیئن شپ 2025 کے چوتھے میچ میں جاپان کو 79-39 گولز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ میچ جنوبی کوریا کے شہر جیونجو میں واقع ہواسان جمنازیم میں کھیلا گیا۔
پاکستان کی جانب سے لیا رضا شاہ، علیشہ نوید، حلیمہ، سرینا حسین، جاسمین فاروق، فرح رشید، امانی، پریسا، سمیہ احمد اور علینہ نے شاندار کارکردگی دکھائی۔
میچ کا اسکور:پہلا کوارٹر: پاکستان 16 – جاپان 9
دوسرا کوارٹر: پاکستان 39 – جاپان 17
تیسرا کوارٹر: پاکستان 60 – جاپان 26
چوتھا کوارٹر: پاکستان 79 – جاپان 39
پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین مدثر آریان، صدر سمین ملک اور سیکرٹری جنرل محمد ریاض نے قومی ٹیم کو بھاری مارجن سے فتح پر مبارکباد دی۔
پاکستان گروپ بی میں شامل ہے اور اب تک کھیلے گئے تمام میچز جیت کر 8 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پاکستان اپنا اگلا میچ کل (منگل، یکم جولائی) کو مالدیپ کے خلاف کھیلے گا۔
ٹورنامنٹ میں شامل ٹیمیں:گروپ اے:
ملائیشیا، سنگاپور، سری لنکا، ہانگ کانگ، بھارت
گروپ بی:
چائنیز تائپے، جاپان، کوریا، پاکستان، مالدیپ، سعودی عرب
ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 کا انعقاد 27 جون تا 4 جولائی، ایشین نیٹ بال فیڈریشن کے زیرِ اہتمام ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 پاکستان جاپان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 پاکستان جاپان ایشین یوتھ نیٹ بال
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔