UrduPoint:
2026-07-24@07:34:34 GMT

غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں اور اسرائیلی بمباری بھی جاری

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں اور اسرائیلی بمباری بھی جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جون 2025ء) غزہ پٹی کے شمالی علاقے کے رہائشیوں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کیے گئے اسرائیلی حملوں کو حالیہ ہفتوں میں کی گئی بدترین بمباری قرار دیا۔ یہ تازہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے چند گھنٹے قبل وسیع پیمانے پرانخلاء کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد کی گئی۔ اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی اپیل کے بعد اسرائیلی حکام واشنگٹن میں نئی جنگ بندی کوششوں کے لیے موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے 20 ماہ پر محیط جنگ کے خاتمے کی اپیل کے ایک دن بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور اسٹریٹیجک امور کے وزیر رون ڈرمر وائٹ ہاؤس پہنچیں گے۔ ان کے ایجنڈے میں غزہ میں جنگ بندی، ایران سے متعلق امور اور ممکنہ علاقائی سفارتی معاہدے شامل ہیں۔

(جاری ہے)

مزید پچیس فلسطینی ہلاک

تاہم غزہ کی پٹی میں زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں لڑائی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

غزہ سٹی کے رہائشی 60 سالہ صلاح نے بتایا، ''دھماکے رکے ہی نہیں، اسکولوں اور گھروں پر بمباری کی گئی، یوں لگا جیسے زلزلہ آ رہا ہو۔ خبروں میں سن رہے ہیں کہ جنگ بندی قریب ہے لیکن زمین پر ہمیں موت اور دھماکے سنائی دیتے ہیں۔‘‘

مقامی رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ٹینک مشرقی غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں داخل ہوئے اور شمالی حصوں میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگی طیاروں نے چار اسکولوں پر بمباری کی، جن میں پناہ گزین سینکڑوں خاندانوں کو بمباری سے قبل نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔

غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 10 زیتون کے علاقے میں مارے گئے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند شہری آبادی میں چھپے ہوتے ہیں، جس کی عسکری گروہ تردید کرتے ہیں۔

اس تازہ بمباری سے قبل اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے وسیع علاقوں میں انخلاء کے نئے احکامات جاری کیے، جہاں پہلے بھی کارروائیاں ہو چکی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ شمالی غزہ، خاص طور پر غزہ سٹی کے اندر موجود حماس جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ آئندہ اقدامات

ٹرمپ کے اس بیان، ''غزہ میں معاہدہ کریں، یرغمالیوں کو واپس لائیں‘‘ کے ایک دن بعد اسرائیلی وزیر رون ڈرمر کی پیر کو وائٹ ہاؤس آمد متوقع ہے، جہاں ایران اور غزہ سے متعلق بات چیت طے ہے۔ دوسری جانب اسرائیل میں نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ غزہ سے متعلق آئندہ اقدامات پر غور کے لیے اجلاس منعقد کرنے والی ہے۔

جمعے کے روز اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ زمینی کارروائی اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اتوار کو نیتن یاہو نے کہا کہ یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے نئے امکانات سامنے آئے ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔

فلسطینی اور مصری ذرائع کے مطابق قطر اور مصر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، تاہم فریقین کے درمیان نئے مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جنگ بندی کی جانب پیش رفت کا انحصار اسرائیل کے موقف کی تبدیلی پر ہے، خاص طور پر جنگ کے خاتمے اور فوجی انخلاء پر آمادگی پر۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف اس وقت ہوگا جب حماس کو غیر مسلح اور تحلیل کر دیا جائے، جسے حماس تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔

یہ جنگ سات اکتوبر 2023 ءکو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے۔

یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے خونی دن تھا۔

اس کے ردعمل میں اسرائیلی فوجی کارروائی نے اب تک غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 56,000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اس جنگ نے 23 لاکھ آبادی والے غزہ کو مکمل انسانی بحران کا شکار بنا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کا 80 فیصد سے زائد علاقہ یا تو اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول ہے یا وہاں انخلاء کے احکامات نافذ ہیں۔

شکور رحیم روئٹرز کے ساتھ

ادارت: عاطف توقیر، رابعہ بگٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسرائیلی فوج کی جانب سے کے مطابق کہ جنگ کی گئی

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز  بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔ 

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور  وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم