نئے مالی سال کا شان دار آغاز؛ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، نیا سنگ میل عبور
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج زبردست تیزی کے نتیجے میں ایک نیا سنگ میل عبور ہوگیا۔
نئے مالی سال 2025-26 کے پہلے ہی دن (یکم جولائی کو) بازارِ حصص میں کاروبار کا آغاز شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب آیا اور انڈیکس نئی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔
منگل کے روز پی ایس ایکس میں کاروبار کے آغاز پر 757 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ ہوئی، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 26 ہزار 384 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پو پہنچ گیا۔
بعد ازاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی وجہ سے حصص کی خرید و فروخت میں تیزی کا رجحان جاری رہا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 1248 پوائنٹس کا اضافہ ہونے سے انڈیکس ایک لاکھ 26 ہزار 876 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کے لیے 3ارب 40کروڑ کا قرض رول اوور کیے جانے سے گزشتہ مالی سال اختتام تک آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 14ارب ڈالر تک پہنچنے اور امریکا کے ساتھ متوقع تجارتی معاہدوں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کا رحجان برقرار رہا تھا۔
کاروباری ہفتے کے پہلے دن (گزشتہ روز) تیزی کے رجحان کے سبب ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈیکس کی ایک لاکھ 25ہزار پوائنٹس کی سطح بھی عبور کرگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر