اسلام آباد(صغیر چوہدری ) جسٹس سرفراز ڈوگر آئینی اور قانونی طور مستقل چیف جسٹس کے منصب کیلئے متفقہ طور پر کامیاب ہوگئے جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی فیصلے کی روشنی میں تمام ابہام دور کردئیے۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو بھاری اکثریت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کے لئے نامزد کردیا گیا جبکہ پشاور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس کیلئے بھی ناموں کی منظوری دے دی گئی ۔۔ سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس منصور علی شاہ کا اجلاس کی کارروائی کے دوران اعتراض سامنے آیا انہوں نے26ویں آئینی ترمیم پر فیصلہ پہلے کرنے کا مطالبہ کردیا لیکن جوڈیشل کمیشن ممبران نے اکثریت کی بنیاد پر انکی تجویز مسترد کردی چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت کمیشن کے اجلاس میں ،جوڈیشل کمیشن میں جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ ، جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کی آغاز پر جسٹس منصور علی شاہ نے اعتراض کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ چیف جسٹسز کی تعیناتی سے پہلے چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس منیب اختر، اپوزیشن کے دو ارکان بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی جسٹس منصور شاہ کی رائے کی حمایت کی، وزیر قانون خیبرپختواہ نے بھی جسٹس منصور علی شاہ کی رائے سے اتفاق کیا۔ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس منصور علی شاہ کی تجویز اکثریت کی بنیاد پر مسترد کردیا.

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں 9 ووٹ آئے، جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے حق میں ووٹ دیا جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کسی جج کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جسٹس محسن اختر کیانی کے حق میں ووٹ دیا، چیف جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے حق میں ووٹ دیا۔اپوزیشن کے دو ممبران بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر اور ممبر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن زوالفقار عباسی نے بھی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے حق میں ووٹ دیا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے ججز ٹرانسفر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا سپریم کورٹ نے تفصیلی دلائل کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت تینوں جسٹسز کے تبادلے کو درست قرار دیا تھا اور،سنیارٹی کے لئے معاملہ صدر مملکت کو بھجوایا تھا صدر آصف علی زرداری نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو سنییارٹی کے اعتبار سے پہلے نمبر قرار دیا تھا ان فیصلوں کے بعد ججز سنیارٹی اور تبادلوں کا معاملہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگیا

Post Views: 8

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ کے حق میں ووٹ دیا جسٹس سرفراز ڈوگر مستقل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کو چیف جسٹس کورٹ کے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن