روس کے سابق نائب وزیردفاع کو بدعنوانی پر قید کی سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روس کے سابق نائب وزیر دفاع تیمور ایوانوف کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر قید کی سزا سنادی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے نائب وزیر دفاع تیمور ایوانوف کو گزشتہ برس اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔نائب وزیردفاع پر 48.
میڈیا ذرائع کے مطابق عدالت نے نائب وزیر دفاع کو 13 سال جب کہ ان کے ایک ماتحت انتون فلاتوف کو بھی 12 سال اور چھ ماہ سزا سنائی گئی۔تفتیش کے دوران نائب وزیر دفاع نے ہوشربا انکشافات کیے جس کی روشنی میں مزید ایک درجن افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہونے کے باعث زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ تاہم سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق نائب وزیر دفاع تیمور ایوانوف کو تمام تمام قانونی معاونت فراہم کی گئی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق نائب وزیر دفاع کو روسی صدر سے مخالفت کی وجہ سے اس کیس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نائب وزیر دفاع
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔