وفاقی وزیر داخلہ کا ہر پارلیمنٹیرین کو ممنوعہ بور کا لائسنس دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سینیٹرز کی جانب سے اسلحہ لائسنس مانگنے پر اعلان کیا ہے کہ ہر پارلیمنٹیرین کو ممنوعہ بور کا ایک لائسنس دیا جائے گا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی پراراکین نے شدید اعتراضات کیے تاہم انہوں پاکستانی سیٹیزن شپ بل 2025 میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک شہریت ترک کرنے والوں کو دوبارہ پاکستانی شہریت لینے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ وہ وطن میں کاروبار، سرمایہ کاری اور خیرات کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور یہ لوگ ملک کے لیے اثاثہ بن سکتے ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے ڈی جی پاسپورٹ کے مبینہ غیرذمہ دارانہ رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا فون نہیں سنتے اور اگر سنتے ہیں تو کام نہیں کرتے، انہوں نے میرے لیڈر ایمل ولی خان کی تضحیک کی ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔
سینیٹر کے اعتراضات پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو اسلحہ لائسنس دیے جاتے تھے اب وہ بھی نہیں دیے جا رہے ہیں، ایک ایک لائسنس تو دیں، جس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ تمام اراکین پارلیمنٹ کو ایک ایک لائسنس جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، وہاں لائسنس کا کوٹہ بڑھایا جائے گا، اس کے علاوہ سابق دور میں فیس جمع کرانے کے باوجود لائسنس نہ ملنے والوں کی فیس واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
سینیٹر فوزیہ ارشد نے وفاقی دارالحکومت میں پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھایا، جس پر وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ راول ڈیم کی صورت حال تشویش ناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے، جو ہر 15 دن بعد اجلاس کرے گی اور اسلام آباد میں پانی کے مسائل پر کام کرے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ ہے، کئی سوسائٹیز غیر قانونی طور پر قائم ہوئی ہیں، یہ بھی ایک الگ بحران ہے۔
اجلاس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے محرم الحرام کے لیے سیکیورٹی بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ صوبے کے 35 اضلاع میں 8 حساس اور 6 انتہائی حساس علاقے ہیں، جن میں 43,470 اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور پنجاب اور بلوچستان کی سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے بتایا کہ ایک حالیہ واقعے میں بیرونی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں جہاں پشاور میں ایک سیاسی ریلی کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان محسن نقوی نے وزیر داخلہ کہا کہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں