جسٹس گل حسن کو عارضی چیف جسٹس بنانے پر بھی غور ہوا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو عارضی یا مستقل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کرنے کے دونوں آپشنز پر غور کیا گیا۔
عدلیہ کی تاریخ میں ایسی کم کم مثالیں ہیں جہاں 4 ہائی کورٹس میں مستقل چیف جسٹس صاحبان کی تعیناتیوں پر غور ہوا ہو دیگر 3 ہائیکورٹس میں تو چیف جسٹس صاحبان کی تعیناتیوں پر جلد فیصلے ہوئے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کیلیے کافی تفصیل سے غور کیا گیا۔
اہم ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ جب تک ججز کی سینیارٹی کے متعلق انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت نہیں ہو جاتی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو عارضی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کردیا جائے۔
پی ٹی آئی کے دونوں ممبران جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر علی خان اور ممبر اسلام آباد بار کونسل ذوالفقار عباسی نے اس رائے کے حق میں ووٹ دیا تاہم اس تجویز کی جسٹس منیب اختر نے مخالفت کی۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ جسٹس میاں گل حسن کو مستقل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کرنے کی رائے کی وجہ تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی انتخاب ہو رہا تھا اور یہ چانسز بھی تھے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اختلافات ختم ہو جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں خط کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کا یہ موقف تھا کہ ججز سینارٹی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کا عمل روک دیا جائے۔
جسٹس منیب اختر اور پی ٹی آئی کے دو ممبران جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر اور جسٹس بیرسٹر گوہر نے بھی اس موقف کی تائید کی۔ دریں اثنا جسٹس سید منصور علی شاہ نے صدر پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی سنیارٹی کے تعین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ سے ایک روز قبل جسٹس منصور شاہ نے کمیشن کے سیکرٹری کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی سنیارٹی کا تعین بظاہر چیف جسٹس پاکستان اور دو متعلقہ چیف جسٹسز کے ساتھ آئینی طور پر لازمی مشاورت کے بغیر کیا گیا۔
ادھر عدالتوں میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں اور اب یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آئینی کمیٹی اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کی انٹرا کورٹ اپیل کب سماعت کیلئے مقرر کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ مستقل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن گل حسن
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ