Jasarat News:
2026-06-03@07:50:29 GMT

سکھر،جے یو آئی کے تحت سندھ گرینڈ امن جرگے کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت ) جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے زیر اہتمام “سندھ گرینڈ امن جرگہ” کا انعقاد ، صوبہ سندھ میں ڈاکو راج، اغوا، قتل، اور حکومتی ناکامی پر سخت احتجاج ، کچے میں صفایا آپریشن اور ریاستی اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ، شریک قبائلی سرداروں کی جانب سے متفقہ طور پر کسی بھی ڈاکو یا مجرم سے لاتعلقی کا اعلان ،جے یو آئی کی میزبانی میں سکھر میں “سندھ گرینڈ امن جرگہ” منعقد ہوا، جس کی صدارت جے یو آئی سندھ کے صوبائی امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی نے کی۔ جرگے میں سندھ بھر سے قبائلی عمائدین ، سرداروں اور زعما نے شرکت کی ، جرگے کے اختتام پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے حکومت، اداروں اور قانون نافذ کرنے والے تمام شعبوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے بگڑتے حالات پر فوری ایکشن لیں، وگرنہ سخت عوامی ردعمل ہو سکتا ھے، انہوں نے کہا کہ سندھ کی حالت یہ ہے کہ نہ صرف بزرگ، مزدور، بلکہ معصوم بچوں تک کے اغوا معمول بن چکے ہیں۔حکمرانوں کے کانوں پر جْوں تک نہیں رینگ رہی، شکارپور میں دو سالہ معصوم بچے کو اغوا کیا گیا، جو کئی دن بعد بازیاب ہوا۔ گڑھی یاسین کے دو معصوم بچے اب بھی ڈاکوؤں کی قید میں ہیں، جو عید سے قبل اغوا کیے گئے تھے اور تا حال بازیاب نہ ہو سکے۔ کشمور میں چار سالہ معصوم بچی کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک سال کے دوران 200 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا، لیکن اتنی بھاری رقم اور دو سالہ مشترکہ آپریشن کے باوجود کچے کے علاقوں میں امن قائم نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2010ء سے 2012ء کے درمیان 872 افراد قتل ہوئے جبکہ گزشتہ 5 سالوں میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں 3 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز، حتیٰ کہ رینجرز اہلکار بھی نشانہ بنے۔ کرائم کا سدباب نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے جرائم میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جرگہ نے مطالبہ کیا کہ ہر ضلع، تحصیل اور تھانے کی سطح پر انسداد جرائم بحالی امن کمیٹیاں بنائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں اغوا کو ’انڈسٹری‘ کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ شکارپور، جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ اور گھوٹکی کے 50-60 کلومیٹر علاقوں میں ریاستی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جے یو ا ئی سندھ کے

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر