data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت ) سنیئر صوبائی وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے حیدرآباد سکھر موٹروے کے لیے جو پیسے رکھے ہیں اس سے لگتا ہے وہ اسے بنانا نہیں چاہتی وہ یہ پیسے رکھ کر سندھ کی عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے تحریک انصاف کے رہنما خان صاحب کو پارٹی سے مائنس کرانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ غیر قانونی اور غیر آیئنی ہے بجلی کی چوری میں جو ملوث ہے اسے کڑی سزا ملی چاہیے یہ بات انھوں نے ٹنڈوجام میں اپنی رہائش گاہ راول ہاوس پر محرم الحرام کے سلسلے میں نیاز کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتر ہوئی ہے آئی ہے اور حکومت پر بین الاقوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے اسی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ سمیت عالمی سطح پر ہماری پوزیشن میں بہتری آئی ہے اور ہمارے دشمن بھارت کو ہر سطح پر ہم سے شکت کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان دہشت گردوں کے خلاف دن رات برسرپیکار ہیں اور ہماری دفاعی صلاحیت بھارت کو عبرتناک شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے انھوں نے کہا کہ اس وقت اقتدار کسی کی ترجیح نہیں ہونا چاہیے بلکہ ملک کی ترقی اور عوام کی خوش حالی ترجہی ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا جہاںحکومت کی ذمہ داری ہے وہاں اپوزیشن کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اپنا ذمے دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا