ہمیں ساری صورتحال کے سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لینا پڑیگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ آج کے پرائم منسٹر کا2021 اس وقت کے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ نظر آیا جب انھوں نے1.71روپے پٹرول فی لیٹر مہنگا ہونے پر بہت دکھی ہوئے تھے، انھوں نے کہا تھاکہ غریب سے نوالہ بھی چھیننا چاہ رہے ہیں، پرائم منسٹر بننے کے بعد دکھ آپ کے بدل جاتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پھر نوید صاحب بات کر رہے تھے تو انھوں نے شوکت عزیز کی یاد دلادی۔
تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ ہمیں ساری صورتحال کے سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لینا پڑے گا کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ حکمران طبقہ جو ہے جو حکومت کا انداز ہے وہ عام آدمی کیلیے سخت سے سخت کرتا چلا جا رہا ہے اور اس کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے، کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ گورنمنٹ جو دعویٰ کر رہی ہے کہ اکانومی سٹیبلائز ہوئی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اکانومی کافی حد تک سٹیبلائز ہوئی ہے لیکن اسٹیبلیٹی سے آگے کا سفر امپورٹنٹ چیز ہوتی ہے، معیشت کی اسٹیبلیٹی کے ثمرات ان تک تب پہنچیں گے جب ہم گروتھ کی طرف جائیں گے۔
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ پچھلے ستتر سال میں یہی مشکلات گا، گے ، گی سے چلتی رہی ہیں، آگے بھی چلتی رہیں گی اس سے تو فرق نہیں پڑتا، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے افسروں کے لیے گاڑیاں تو لے لیں چونکہ وزیراعظم کے چہیتے بیوروکریٹ ہیں جب انرجی میں گئے تو ہمیں کہانیاں سنانے کے لیے بیٹھ گئے تھے کہ یہ یوں ہوتا ہے، یہ یوں ہوتا ہے۔
تجزیہ کار ڈاکٹر سندس مستقیم نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ کچھ بھی یکطرفہ نہیں ہے، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ابھی پچھلے ہی دنوں ہم نے ایران اسرائیل جنگ کے بعد جو سیز فائر دیکھاآپ کو کیا لگتا ہے کہ کیوں سیز فائر تک نوبت پہنچی؟کیونکہ نہج تیسری جنگ عظیم تک پہنچ گئی تھی اور سیز فائر کے پیچھے بہت سارے محرکات کار فرما تھے جس میں ٹریڈ روٹس کا بہت بری طرح متاثر ہونا بھی تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ انھوں نے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔