بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرنے والے دہشت گردوں کو جیل بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے والے دہشت گردوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے والے دہشت گردوں کو دھماکا خیز مواد کے مقدمے میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے عددالت میں پیش کیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں محمد خان بوریو عرف گلو، اختر علی، جامین ملاح اور غلام قادر بوریو شامل ہیں۔
تفتیشی افسر نے ملزمان کے مزید ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان کو پولیس نے نیشنل ہائی وے کے قریب سے گرفتار کر کے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے ہینڈ گرینیڈ اسلحہ اور ایک آلٹو کار برآمد کی گئی ہے، پولیس نے ملزمان کے خلاف 7 مقدمات درج کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔