امریکا آنے والوں کے لیے نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے ویزا اور گرین کارڈ منسوخی کا نیا قانون نافذ کر دیا گیا۔

امریکا میں امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے جولائی 2025ء میں ایک نیا اور سخت ترین موڑ سامنے آیا ہے۔

امریکا میں داخلے کے خواہشمند افراد، گرین کارڈ ہولڈرز اور ویزا رکھنے والوں کے لیے امیگریشن محکمے نے ایک انتباہی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آنا اور یہاں رہنا ایک اعزاز ہے۔ نہ کہ حق، اگر آپ دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں، تشدد کی ترغیب دیتے ہیں یا کسی ایسی سرگرمی میں شریک ہوتے ہیں تو آپ امریکا میں رہنے کے اہل نہیں رہیں گے۔

یہ وارننگ ایسے وقت میں آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی مدت صدارت میں امیگریشن کے خلاف سخت ترین کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

ان کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکال دے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ملک میں غیرقانونی طور پر رہنے والا ہر شخص مجرم ہے۔ لیکن یہ کارروائی صرف غیرقانونی تارکین وطن تک محدود نہیں، بلکہ ایسے افراد بھی زد میں آ گئے ہیں جن کے پاس درست ویزے یا گرین کارڈز ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق درجنوں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں گرین کارڈ ہولڈرز کو بھی امیگریشن چھاپوں میں حراست میں لیا گیا۔

محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2024ء تک 1.

28 کروڑ افراد امریکا میں قانونی مستقل رہائشی تھے، اب یو ایس سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قانونی رہائشی امریکی اقدار یا قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے جیسے کہ تشدد، دہشت گردی یا نفرت انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اس کا گرین کارڈ یا ویزا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ حکومت نے یونیورسٹیوں میں حماس کی حمایت کے الزام میں غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔ اس میں کیمپس مظاہروں میں شرکت اور فلائرز کی تقسیم جیسے اقدامات شامل ہیں۔

حال ہی میں 2 فلسطینی نژاد افراد کو حراست میں لیا گیا، جس میں محمود خلیل، کولمبیا یونیورسٹی کا طالبعلم اور سرگرم کارکن اور محسن مہداوی، گرین کارڈ ہولڈر اور شہریت کے لیے اپوائنٹمنٹ پر پہنچنے کے دوران گرفتار ہوئے، دونوں بعد ازاں قانونی جنگ کے بعد رہا ہوئے۔

مقامی یونیورسٹی کے مطابق اس وقت امیگریشن عدالتوں میں 3.7 ملین سے زائد کیسز زیر التوا ہیں، اور پناہ کے متلاشیوں کو سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی طالبعلم ویزا لے کر امریکا میں صرف مظاہروں میں شرکت، عمارتوں پر قبضہ اور افراتفری پھیلانے آتا ہے، تو ہم اسے ویزا نہیں دیں گے۔

ٹرمپ حکومت کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری مہم کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت نہ صرف غیر قانونی افراد بلکہ گرین کارڈ رکھنے والے سیاسی یا احتجاجی سرگرمیوں میں ملوث افراد بھی زد میں آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب یو ایس سی آئی ایس نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی جعلی میسج، کال یا پیمنٹ ریکویسٹ پر توجہ نہ دیں، کوئی بھی مشکوک پیغام موصول ہونے پر سرکاری ویب سائٹ پر رپورٹ کریں۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکا میں گرین کارڈ کے مطابق

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار