سہیل وڑائچ کا صبا قمر سمیت نقل اتارنے والوں کو واضح پیغام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنی نقل اتارنے والوں کو کہا ہے کہ مجھے میمز بنانے والوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سہیل وڑائچ نے حال ہی میں ایک شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر بات کی۔ دورانِ شو میزبان نے ان سے فضا علی کے تبصرے کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ اس دوران آپ نے ہنس کر ان کی باتیں برداشت کیں اور چہرے کی مسکراہٹ نہیں جانے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ’صحافی نہ ہوتے تو واش روم صاف کرتے‘، فضا علی کے تبصرے پر سہیل وڑائچ بھی بول اٹھے
صحافی نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ ان کی رائے تھی اور میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ نہ میں ان سے ناراض ہوں، نہ ہی مجھے ان کی بات کا غصہ لگا اور نہ ہی مجھے ان سے نفرت ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں خود سب سے پہلے فضا علی کا انٹرویو کروں گا، ان کی منت کروں گا اور معافی مانگوں گا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔
سہیل وڑائچ نے صبا قمر کی جانب سے نقل اتارنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں میمز بنانے پر برا محسوس نہیں کرتا۔ جو کوئی نقل کرتا ہے وہ بہت محنت کرتا ہے انہیں داد دینی چاہیے غصہ نہیں کرنا چاہیے۔ میں تو شکر گزار ہوں کہ لوگ میری نقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں اسی قابل ہوں کہ میری توہین ہو‘، سہیل وڑائچ کا فضا علی کے تبصرے پر جواب
واضح رہے کہ اداکارہ و گلوکارہ فضا علی کو گزشتہ دنوں سینئر صحافی سہیل وڑائچ سے متعلق متنازع بیان دینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں ںے ایک پروگرام میں کہا کہ اگر سہیل وڑائچ صحافی نہ ہوتے تو کسی مشہور ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں واش روم صاف کر رہے ہوتے، کیونکہ وہ ہر عورت کے واش روم میں چلے جاتے ہیں۔
فضا علی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان کو خوب تنقہد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صحافی کی تضحیک کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اداکارہ کے اس بیان پر سینئر صحافی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری حیثیت بیت الخلا صاف کرنے والوں سے بھی کمتر ہے۔ میں تو گلیوں کی وہ خاک ہوں جسے میاں محمد بخش نے ’گلیاں دا روڑا کُوڑا‘ کہا تھا۔ میرے نزدیک بیت الخلا کی صفائی کوئی ذلت کی بات نہیں ہے بلکہ دوسروں کی گندگی کو صاف کرنا ایک عظیم خدمت ہے۔
سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ تنازعہ اب ختم ہو جائے کیونکہ میں خود غلطیوں کا پتلا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں ہی دنیا کا سب سے بڑا گناہگار ہوں گا اس لیے میں کسی کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں اور نہ چاہتا ہوں کسی کی توہین ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس قابل ہوں کہ میری توہین ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سہیل وڑائچ صبا قمر فضا علی فضا علی پر تنقید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل وڑائچ فضا علی فضا علی پر تنقید سہیل وڑائچ نے فضا علی کے کہا کہ کہ میں ہوں کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔