ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ڈیجیٹل معیشت سے متعلق ہفتہ وار اجلاس ہوا جس میں مختلف وفاقی وزرا اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت میں شفافیت لانے اور عوامی سہولت کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام ضروری ہے اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ڈیجیٹل پیمنٹس اور پبلک انفراسٹرکچر کے لیے کمیٹیاں قائم ہو چکی ہیں اور اسٹیٹ بینک تاجروں کے لیے ادائیگیوں کا آسان نظام متعارف کرا رہا ہے چھوٹے کاروباروں کے لیے سہل پیکج تیار کیا جا رہا ہے جبکہ موبائل ایپلی کیشنز کے صارفین کی تعداد کو بڑھا کر ایک کروڑ بیس لاکھ اور کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے تاجروں کی تعداد دو ملین تک لے جانے کا ہدف ہے وزیراعظم نے ان اہداف کو دوگنا کرنے کی ہدایت کی اسلام آباد سٹی ایپ پر پندرہ سروسز فراہم کی جا رہی ہیں جس کے ذریعے پندرہ ارب سے زائد کا ریونیو حاصل ہوا ہے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ای اسٹیمپنگ اور پبلک مقامات پر وائی فائی کی سہولت جلد دستیاب ہوگی جبکہ ان سہولیات کو آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جائے گا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔