اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 جولائی 2025ء) مشرقی جرمن ریاست سیکسنی کے دارالحکومت ڈریسڈن سے جمعرات تین جولائی کو موصولہ ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس صوبے کے حکام نے تین بلدیات میں جنگلاتی آگ پھیلنے کے بعد ڈیزاسٹر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ صوبے سیکسنی اور برانڈنبرگ کے درمیان سرحدی علاقوں میں متعدد مقامات میں جنگلاتی آگ پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

آگ بجھانے والے محکمے نے انتباہ کیا ہے کہ شہر ڈریسڈن میں ارد گرد کی جنگلاتی آگ کے سبب دھواں پھیل رہا ہے اور جنگلاتی آگ کے جُھلسنے کی مخصوص بو پھیل رہی ہے۔

دریں اثناء سیکسنی کی سرحد سے متصل علاقے گیہورش ہائیڈے میں لگی جنگلاتی آگ 200 ہیکٹر کے رقبے پر پھیل گئی جس کے سبب قریبی علاقے سائٹہائن، وؤلکنٹس اور گرؤڈٹس کے رہائشیوں کو ان کے فون پر انتباہی ہنگامی پیغامات بھیجے جا چکے ہیں۔

(جاری ہے)

برانڈنبرگ کے کئی نزدیکی چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کو آگ کے خطرات کی وجہ سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ دریں اثناء منگل کی رات ایک ایسے مقام پر آگ بھڑک اٹھی، جہاں سرکاری بم ڈسپوزل ایجنسی بموں کو ناکارہ بنانےکا کام انجام دیتی ہے۔

یہ علاقہ پہلے ہی سے پھٹ نہ سکنے والے دھماکہ خیز ہتھیاروں کے زیر زمین موجود ہونے کے خطرات سے دوچار ہے۔

ان ہتھیاروں کو تلف کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ڈرسڈن کے مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات تک آگ 10 ہزار مربع میٹر کے رقبے تک پھیل گئی جبکہ ہائیڈے میں آگ بجھانے والے عملے نے اپنا کام مکمل کر لیا۔

حکام کے مطابق کم از کم 480 اہلکاروں پر مشتمل عملہ آگ پر قابو پانے میں مصروف ہے۔ حکام نے ڈی پی اے کو بتایا کہ ایک ہیلی کاپٹر بھی آگ پر قابو پانے کے کام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز آپریشن کے دوران دو فائر فائٹرز جھلس کر شدد زخمی ہو گئے تھے۔

جرمنی میں یہ جنگلاتی آگ دراصل اس سال پڑنے والی شدید گرمی کا نتیجہ ہے۔ جرمنی سمیت یورپ بھر میں گزشتہ چند روز قیامت خیز گرمی رہی اور درجہ حرارت کئی علاقوں میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ گیہورش ہائیڈے کا علاقہ کئی دہائیوں سے قدرتی ذخائر سے مالا مال رہا ہے ساتھ ہی صوبے سیکسنی معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار پرندوں کی افزائش کا گھر بھی ہے۔

ماضی میں یہ علاقہ متعدد بار جنگلاتی آگ کے شعلوں کاشکار ہو چکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں آئے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک اس سال کے انتہائی شدید موسم گرما سے بچاؤ کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ گرمی کی شدت جرمن جیسے معاشرے میں بھی صحت عامہ اور معاشی شعبے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جرمنی کی فیڈرل انوائرمنٹ ایجنسی اور بیماریوں پر تحقیق کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2023ء اور 2024ء میں ایک اندازے کے مطابق ہر سال گرمی سے متعلق وجوہات کی وجہ سے تقریباﹰ تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر 75 سال سے زائد عمر کے افراد تھے جو پہلے ہی ڈیمنشیا، دل کی بیماریوں، یا پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جنگلاتی آگ کے مطابق

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری