مائننگ پالیسی میں بڑی پیشرفت، امریکا، چین اور روس کو مساوی مواقع
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے اربوں ڈالر کے مائننگ معاہدوں کی پیشکش کے لیے ’’کھلے ہاتھ‘‘ کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کر لیا جس کے تحت امریکا، چین اور روس جیسے حریف ممالک کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
وزارت پٹرولیم نے حال ہی میں امریکی حکام اور کمپنیوں کے ساتھ ایک ویبینار منعقد کیا جس میں مشترکہ منصوبوں کی پیشکش کی گئی۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام ممالک کو مائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے یکساں مواقع دے رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ریکوڈک گولڈ اینڈ کاپر منصوبے پر کام کر رہا ہے، جو اربوں ڈالر مالیت کا منصوبہ ہے اور مختلف ممالک کے لیے سرمایہ کاری کا نیا دروازہ کھولے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبہ سرمایہ کاری کے لیے رول ماڈل بنے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کسی بھی ملک سے امتیازی سلوک کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں روس کا دورہ کر چکا ہوں اور وہاں کی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، جب بھی ہم بولی کا عمل شروع کریں گے، کوئی بھی کمپنی حصہ لے سکتی ہے۔
ایل این جی کے موجودہ بحران پر بات کرتے ہوئے انھوں نے سابق حکومت کو قطر کے ساتھ دوسرے طویل المدتی معاہدے کا ذمے دار قرار دیا۔انھوں نے واضح کیا کہ حکومت 2026 میں ختم ہونے والے ایل این جی معاہدے پر نظرثانی کا ارادہ رکھتی ہے۔
سرکلر ڈیٹ اور گیس کی کٹوتی کے حوالے سے انھوں نے پاور ڈویژن کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر مطلوبہ گیس لینے کو تیار نہیں۔ کیبنٹ سے ایل این جی کی ’ٹیک اینڈ پے‘ گارنٹی 60 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کروانے کی منظوری بھی پاور ڈویژن نے لی تھی، جس سے پٹرولیم ڈویڑن میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔
وزیر نے بتایا کہ مہنگی درآمدی ایل این جی کی وجہ سے حکومت کو 300 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس کی پیداوار روکنی پڑی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم زیرو خسارے کے ہدف پر ہیں، اس لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایران سے تیل و گیس درآمد کیلیے امریکی پابندیوں میں چھوٹ کے سوال پر انھوں نے بتایا کہ ایک وزارتی کمیٹی اس پر غور کر رہی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر دونوں ممالک پیرس میں ثالثی میں مصروف ہیں۔چین اور بھارت کو دی گئی چھوٹ کے بارے میں وزیر نے کہا کہ یہ ممالک آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ نہیں جبکہ پاکستان ہے، اس لیے ہمیں احتیاط برتنی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ایل این جی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :