ڈسکہ: مبینہ طورپر زہریلا کھانا کھانے سے 2 بچیاں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
ڈسکہ میں مبینہ طورپرزہریلا کھانا کھانے سے دو بچیوں کی جان چلی گئی،ماں اور دو بچے اسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
پولیس کےمطابق واقعہ گاؤں کوٹلہ سکھیاں میں پیش آیا،جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت آٹھ سال کی آیت فاطمہ اورچارسال کی مِرحا فریاد کے نام سے ہوئی ہے۔
جبکہ ماں اوردو بیٹے تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیرعلاج ہیں،متاثرہ خاندان کا سربراہ محمد فریاد روزگارکے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہے،پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔